حدیث نمبر: 2562
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن أحمد بن مِهْران الثقفي الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد المالكي بالرَّي، حدثنا أحمد بن صالح بمصر، حدثني عبد الله بن وهب القرشي، أخبرني عاصم بن حَكيم، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيْباني، عن عبد الله بن الدَّيْلمي، أنَّ يعلى بن أُمية (2) قال: أَذِنَ رسول الله ﷺ بالغزو وأنا شيخ كبير ليس لي خادم، فألتمستُ أجيرًا يكفيني وأُجري له سهمَه، فوجدتُ رجلًا، فلما دنا الرحيلُ أتاني فقال: ما أدري ما السُّهْمانُ وما يَبلُغ سهمي، فسمِّ لي شيئًا كان السهمُ أو لم يكن، فسمَّيتُ له ثلاثةَ دنانير، فلما حضرتْ غنيمةٌ أردتُ أن أُجريَ له سهمه فذكرتُ الدنانيرَ، فجئتُ النبيَّ ﷺ، فذكرتُ له أمَره، فقال: "ما أجِدُ له في غزوتِه هذه في الدنيا إلّا دنانيرَه التي سمَّى" (3). صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2530 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوے کی اجازت دی، میں ایک بوڑھا آدمی تھا اور میرا کوئی خادم نہیں تھا، میں نے ایک اجرت پر کام کرنے والے کی تلاش کی جو میری خدمت کرے اور میں اسے (مالِ غنیمت میں) حصہ دوں، ایک آدمی مل گیا لیکن اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ حصے کیا ہوتے ہیں، آپ میرے لیے کوئی رقم مقرر کر دیں خواہ حصہ ملے یا نہ ملے، میں نے اس کے لیے تین دینار طے کر دیے، پھر جب مالِ غنیمت ملا تو میں نے چاہا کہ اسے حصہ دوں مگر مجھے وہ دینار یاد آ گئے، میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے اس غزوے کے بدلے دنیا میں ان دیناروں کے سوا کچھ نہیں ہے جو اس نے (نیت کر کے) طے کیے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2562
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عبد الله بن الديلمي: هو ابن فيروز.» [ترقيم الرساله 2562] [ترقيم الشركة 2545] [ترقيم العلميه 2530]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ز): مُنْية، بدل أمية، وكلاهما صحيح كما قدمنا بين يدي الحديث (2555).
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "امیہ" کے بجائے "منیہ" لکھا ہے، اور یہ دونوں ہی (نام) درست ہیں جیسا کہ ہم حدیث نمبر (2555) سے پہلے مقدمے میں واضح کر چکے ہیں۔
(3) إسناده صحيح عبد الله بن الديلمي: هو ابن فيروز.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی عبداللہ بن الديلمی سے مراد عبداللہ بن فیروز ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2527) عن أحمد بن صالح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے (2527) میں احمد بن صالح کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم نحوه من طريق خالد بن دريك عن يعلى بن أمية برقم (2555).
تفصیلِ روایت: اسی طرح کی روایت خالد بن دریک کے طریق سے یعلی بن امیہ سے مروی ہے جو پیچھے نمبر (2555) پر گزر چکی ہے۔
والسهمان، بضم السين: جمع سهم.
نوٹ / توضیح: لفظ "السُّہمان" (سین پر پیش کے ساتھ) "سہم" (حصہ/تیر) کی جمع ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2562 سے ماخوذ ہے۔