المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
الدَّفْنُ بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ لِعُذْرٍ باب: عذر کی وجہ سے سات دن بعد دفن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2535
أخبرنا أبو العبَّاس السَّيّاري، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا علي ابن الحسن بن شَقيق، حدثنا عبد المؤمن بن خالد الحنفي، حدثني نَجْدة بن نُفيع، قال: سألتُ ابن عباس عن قول الله ﷿: ﴿إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ [التوبة: 39] قال: استنفَرَ رسولُ الله حيًّا من أحياء العرب، فتثاقَلُوا، فأُمسك عنهم المطر، وكان عذابَهم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2504 - صحيححافظ طلحہ بابر
نجدہ بن نفیع سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ ”اگر تم نہیں نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا“ [سورة التوبة: 39] کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے عرب کے ایک قبیلے کو جہاد کے لیے بلایا لیکن انہوں نے سستی دکھائی، پس ان سے بارش روک لی گئی اور یہی ان کا عذاب تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لجهالة نجدة بن نُفيع.
درجۂ حدیث: نجدہ بن نفیع کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وسيأتي برقم (2584) من طريق زيد بن الحُباب عن عبد المؤمن بن خالد.
حوالہ / مصدر: یہ نمبر (2584) پر زید بن الحباب کے طریق سے آئے گی۔
درجۂ حدیث: نجدہ بن نفیع کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وسيأتي برقم (2584) من طريق زيد بن الحُباب عن عبد المؤمن بن خالد.
حوالہ / مصدر: یہ نمبر (2584) پر زید بن الحباب کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2535 سے ماخوذ ہے۔