حدیث نمبر: 2534
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُؤمَّل ابن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت عن أنس: أنَّ أبا طلحة قرأ القرآن ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41]، فقال: أرى أن نَسْتَنْفِرَ شيوخًا وشبابًا، فقالوا: يا أبانا لقد غزوتَ مع النبي ﷺ حتى مات، ومع أبي بكر وعمر، فنحن نَعْزُو عنك، قال: فأبَى، فركِبَ البحرَ حتى ماتَ، فلم يَجِدوا جزيرةً يدفنُوه إلَّا بعد سبعة أيام، قال: فما تَغيَّر (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2503 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ ”تم نکلو خواہ تم ہلکے ہو یا بوجھل“ [سورة التوبة: 41]، تو انہوں نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ ہمیں ہر حال میں نکلنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے ہم بوڑھے ہوں یا جوان، ان کے بیٹوں نے کہا: ابا جان! آپ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہو گئی، اور پھر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی جہاد کیا، اب آپ کی طرف سے ہم جہاد کرتے ہیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور بحری سفر پر روانہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، سات دن تک (تدفین کے لیے) انہیں کوئی جزیرہ نہ ملا، راوی کہتے ہیں کہ (جب جزیرہ ملا) تو ان کے جسم کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2534
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وقد توبع مُؤمَّل بن إسماعيل. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 2534] [ترقيم الشركة 2517] [ترقيم العلميه 2503]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، وقد توبع مُؤمَّل بن إسماعيل. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، مؤمل بن اسماعیل کی متابعت موجود ہے۔ ثابت سے مراد ثابت بن اسلم البنانی ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (7184) من طريق عبد الرحمن بن سلام الجُمحي، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7184) نے حماد بن سلمہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (5605) من طريق عبد الله بن المبارك عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد وثابت، عن أنس.
حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (5605) پر ابن مبارک کے طریق سے حضرت انس سے مروی ہو کر آئے گی۔
قوله: "فما تغيّر" أي ما أَنتن ولا خبُثت رائحته، كحال الأموات.
نوٹ / توضیح: "پس وہ تبدیل نہ ہوا" کا مطلب ہے کہ (موت کے بعد) ان کے جسم میں کوئی بدبو پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی حالت بدلی جیسا کہ عام طور پر اموات کے ساتھ ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2534 سے ماخوذ ہے۔