حدیث نمبر: 2533
أخبرنا إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجّاج بن محمد قال: قال ابن جُرَيج: أخبَرني محمد بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن معاوية بن جاهِمَة: أَنَّ جَاهِمَةَ أَتى النبيَّ ﷺ فقال: إني أردتُ أن أغزوَ، فجئتُ أستشِيرُك، فقال: "ألك والدهٌ؟ " قال: نعم، قال: "اذهَبْ فالزَمْها، فإنَّ الجنة عند رِجْلَيها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2502 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (جاہمہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں اور آپ سے مشورہ کرنے آیا ہوں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ان کی خدمت میں رہو، کیونکہ جنت ان کے قدموں کے پاس ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2533
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن طلحة وأبيه، فهما صدوقان، وكذا محمد بن الفرج صدوق، لكنه متابع. ابن جُرَيج: هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي.» [ترقيم الرساله 2533] [ترقيم الشركة 2516] [ترقيم العلميه 2502]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن طلحة وأبيه، فهما صدوقان، وكذا محمد بن الفرج صدوق، لكنه متابع. ابن جُرَيج: هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي.
درجۂ حدیث: محمد بن طلحہ اور ان کے والد کی وجہ سے سند حسن ہے، وہ دونوں صدوق ہیں۔ محمد بن الفرج بھی صدوق ہیں۔ ابن جریج سے مراد عبد الملک بن عبد العزیز المکی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2781 م) عن هارون بن عبد الله الحَمَّال، والنسائي (4297) عن عبد الوهاب ابن الحكم الوراق، كلاهما عن حجاج بن محمد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2781) اور نسائی (4297) نے حجاج بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 24 / (15538) عن روح بن عُبادة، عن ابن جُرَيج، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے روح بن عبادہ عن ابن جریج کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2781) من طريق محمد بن إسحاق، عن محمد بن طلحة، عن معاوية بن جاهمة، قال: أتيت رسولَ الله … فوهم في موضعين: وهم في إسقاط ذكر طلحة من إسناده، وجعله من مسند معاوية بن جاهمة، وأثبت القصة له، وإنما القصة لأبيه، كما حققه الحافظ في "الإصابة" 1/ 446 - 447 في ترجمة جاهمة.
فنی نکتہ / علّت: ابن ماجہ کی ایک اور روایت (از ابن اسحاق) میں دو جگہ وہم ہوا ہے: ایک تو سند سے 'طلحہ' کا نام گر گیا، دوسرا یہ کہ اسے معاویہ بن جاهمہ کا واقعہ بنا دیا گیا، جبکہ 'الاصابہ' میں حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق یہ واقعہ ان کے والد (جاهمہ) کا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2533 سے ماخوذ ہے۔