المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
اسْتِئْذَانُ الْأَبَوَيْنِ عِنْدَ الْجِهَادِ باب: جہاد کے لیے والدین سے اجازت لینا
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رجلًا هاجَرَ إلى رسول الله ﷺ من اليمن، فقال: يا رسول الله، إني هاجَرْتُ، فقال له رسول الله ﷺ: قد هَجَرْتَ من الشِّرك، ولكنه الجهادُ، هل لك أحدٌ باليمن؟ " قال: أبَوان، قال: "أَذِنا لك؟ " قال: لا، قال: "فارجِعْ فاستأذِنُهُما، فإن أَذِنا لك فجِاهْد، وإلّا فبِرَّهما" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث عبد الله بن عمرو: "ففيهما فجاهِدْ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2501 - دراج واهسیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تم نے شرک سے تو ہجرت کر لی ہے لیکن اب جہاد کا معاملہ ہے، کیا یمن میں تمہارا کوئی (عزیز) ہے؟“ اس نے عرض کیا: میرے والدین ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے؟“ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے اجازت مانگو، اگر وہ تمہیں اجازت دے دیں تو جہاد کرو ورنہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک (خدمت) کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث ”پس ان دونوں (والدین) میں جہاد کرو“ پر اتفاق کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ دراج ابوالسمح جب ابوالہیثم سے روایت کریں تو ضعیف ہوتے ہیں۔ ابن وہب سے مراد عبد اللہ بن وہب ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2530)، وابن حبان (422) من طريقين عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
وأخرجه أحمد 18/ 11721) من طريق عبد الله بن لَهِيعة، عن دَرَّاج، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2530)، ابن حبان (422) اور امام احمد (11721) نے ابن لہیعہ اور ابن وہب کے طریق سے دراج سے روایت کیا ہے۔
وقوله: "قد هجرت من الشرك يُفسِّره قوله ﷺ في حديث عبد الله بن عمرو عند البخاري (10):
نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "میں نے شرک سے ہجرت کی" کی وضاحت صحیح بخاری (10) کی اس حدیث سے ہوتی ہے: المهاجر من هَجَرَ ما نهى اللهُ عنه".
مجموعی اصول / قاعدہ: "حقیقی مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے"۔
(1) أخرجه البخاري برقم (3004)، ومسلم (2549).
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (3004) اور امام مسلم (2549) نے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (7437) و (7442).
حوالہ / مصدر: مزید تفصیل آگے نمبر (7437، 7442) پر ملاحظہ فرمائیں۔