حدیث نمبر: 2531
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن وَحْشيّ بن حرب بن وحشي، عن أبيه، عن جدِّه وَحْشي بن حرب: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، إنا نأكُلُ وما نَشبَعُ! قال: "فلعلَّكم تَفترِقُون عن طعامكم، اجتَمِعُوا عليه، واذكروا اسمَ الله، يُبارك لكم" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2500 - أخرجناه شاهدا
حافظ طلحہ بابر

سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن ہمارا پیٹ نہیں بھرتا!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم الگ الگ ہو کر کھانا کھاتے ہو؟ تم سب اکٹھے ہو کر کھانا کھایا کرو اور (شروع میں) اللہ کا نام لیا کرو، اللہ اس کھانے میں تمہارے لیے برکت عطا فرمائے گا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2531
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد فيه لين من أجل وحشي بن حرب بن وحشي، وقد حسنه الحافظ العراقي في "تخريج أحاديث الإحياء" 2/ 5.» [ترقيم الرساله 2531] [ترقيم الشركة 2514] [ترقيم العلميه 2500]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد فيه لين من أجل وحشي بن حرب بن وحشي، وقد حسنه الحافظ العراقي في "تخريج أحاديث الإحياء" 2/ 5.
درجۂ حدیث: یہ حسن لغیرہ ہے، اس کی سند میں وحشی بن حرب کی وجہ سے تھوڑی کمزوری (لین) ہے، مگر حافظ عراقی نے 'تخریج احادیث الاحیاء' میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 25 / (16078)، وأبو داود (3764)، وابن ماجه (3286)، وابن حبان (5224) من طرق عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے ولید بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث جابر بن عبد الله عند أبي يعلى (2045)، والطبراني في "الأوسط" (7317)، وفي "مكارم الأخلاق" (161)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (9174) و (9175)، بلفظ: "أحب الطعام إلى الله ما كثرت عليه الأيدي"، ورجاله ثقات.
متابعات و شواہد: حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت اس کی شاہد ہے جس کے الفاظ ہیں: "اللہ کو وہ کھانا سب سے زیادہ پسند ہے جس پر ہاتھ زیادہ ہوں (یعنی مل کر کھایا جائے)"، اس کے راوی ثقات ہیں۔
وحديث عمر بن الخطاب عند ابن ماجه (3287) بلفظ: "كلوا جميعًا ولا تتفرقوا، فإنَّ البركة مع الجماعة". وإسناده ضعيف.
متابعات و شواہد: حضرت عمر کی روایت میں ہے: "اکٹھے کھاؤ اور الگ الگ نہ ہو، کیونکہ برکت جماعت کے ساتھ ہے"۔ اس کی سند ضعیف ہے۔
وانظر تمام شواهده في "مسند أحمد".
حوالہ / مصدر: اس کے تمام شواہد 'مسند احمد' میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2531 سے ماخوذ ہے۔