المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
يَتْبَعُ الْمُؤْمِنَ بَعْدَ مَوْتِهِ ثَلَاثَةٌ باب: مؤمن کے مرنے کے بعد تین چیزیں اس کے پیچھے جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 252
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا عِمرانُ القطَّانُ، عن قَتَادة، عن أنس، عن النبي ﷺ قال: "ما مِن عبدٍ إلّا وله ثلاثةُ أخلَّاءَ" فذكر الحديثَ بطوله، نحو حديث إبراهيم بن طَهْمان (1). وله شاهدٌ آخرُ على شرط مسلم:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جس کے تین گہرے دوست نہ ہوں“ پھر انہوں نے سابقہ حدیث کی طرح مکمل طویل روایت ذکر فرمائی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمران بن داوَر القطّان.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور عمران بن داور القطان کی وجہ سے اس کی سند حسن کے درجے پر ہے۔
وسيأتي برقم (1391) من طريق أبي داود الطيالسي عن عمران القطان.
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (1391) پر ابوداؤد الطیالسی عن عمران القطان کے طریق سے آئے گی۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور عمران بن داور القطان کی وجہ سے اس کی سند حسن کے درجے پر ہے۔
وسيأتي برقم (1391) من طريق أبي داود الطيالسي عن عمران القطان.
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (1391) پر ابوداؤد الطیالسی عن عمران القطان کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 252 سے ماخوذ ہے۔