المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
يَتْبَعُ الْمُؤْمِنَ بَعْدَ مَوْتِهِ ثَلَاثَةٌ باب: مؤمن کے مرنے کے بعد تین چیزیں اس کے پیچھے جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 251
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيانُ، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عَمْرو بن حَزْم، سمع أنسَ بن مالك يَبلُغُ به النبيَّ ﷺ قال: "يَتبَعُ المؤمنَ بعد موتِه ثلاثةٌ: أهلُه، ومالُه، وعملُه، فيَرجِعُ اثنانِ ويبقى واحدٌ (2)، يَرجِعُ أهلُه ومالُه، ويبقى عملُه" (3). وقد تابع عمرانُ القطَّانُ الحجَّاجَ فساق الحديثَ بطوله:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کے (جنازے کے) پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کے اعمال؛ پھر دو واپس لوٹ آتے ہیں اور ایک (قبر میں) باقی رہ جاتا ہے، اس کے گھر والے اور مال واپس آ جاتے ہیں جبکہ اس کے اعمال باقی رہ جاتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في نسخنا الخطية: واحدة، والمثبت من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں لفظ "واحدۃ" ہے، جبکہ ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن قائم کیا ہے جیسا کہ طبعہ میمان میں ہے۔
(3) إسناده صحيح. ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابن ابی عمر سے مراد محمد بن یحییٰ بن ابی عمر العدنی ہیں، اور سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12080)، والبخاري (6514)، ومسلم (2960)، والترمذي (2379)، والنسائي (2075)، وابن حبان (3107) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (ج19، 12080)، بخاری (6514)، مسلم (2960)، ترمذی (2379)، نسائی (2075) اور ابن حبان (3107) نے سفیان بن عیینہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں لفظ "واحدۃ" ہے، جبکہ ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن قائم کیا ہے جیسا کہ طبعہ میمان میں ہے۔
(3) إسناده صحيح. ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابن ابی عمر سے مراد محمد بن یحییٰ بن ابی عمر العدنی ہیں، اور سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12080)، والبخاري (6514)، ومسلم (2960)، والترمذي (2379)، والنسائي (2075)، وابن حبان (3107) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (ج19، 12080)، بخاری (6514)، مسلم (2960)، ترمذی (2379)، نسائی (2075) اور ابن حبان (3107) نے سفیان بن عیینہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 251 سے ماخوذ ہے۔