المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
الدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ قَرْيَةٍ يُرِيدُ دُخُولَهَا باب: اس بستی کو دیکھنے پر دعا جو اس میں داخل ہونا چاہے۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني حفص بن مَيسَرة، عن موسى بن عُقْبة، عن عطاء ابن أبي مروان، عن أبيه، أنَّ كعبًا حدثه، أنَّ صهيبًا صاحبَ النبي ﷺ حدّثه: أنَّ النبي ﷺ لم يَرَ قريةً يريد دخولها إلَّا قال حين يراها: "اللهم ربَّ السماوات السبعِ وما أظلَلْنَ، وربَّ الأَرْضِينَ السبعِ وما أقلَلْنَ، وربَّ الشياطين وما أضلَلْنَ، وربَّ الرياح وما ذَرَيْنَ، فإنا نسألك خيرَ هذه القريةِ وخيرَ أهلِها، ونعوذُ بك من شرِّها وشرِّ أهلها، وشرِّ ما فيها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2488 - صحيحسیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی کسی بستی کو دیکھتے جس میں داخل ہونے کا ارادہ ہوتا تو اس وقت یہ فرماتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور ان تمام چیزوں کے رب جن پر انہوں نے سایہ کیا ہوا ہے، اور ساتوں زمینوں اور ان چیزوں کے رب جنہیں انہوں نے اٹھایا ہوا ہے، اور شیطانوں کے رب جنہیں انہوں نے گمراہ کیا، اور ہواؤں کے رب جنہوں نے انہیں اڑایا، ہم تجھ سے اس بستی کی خیر، اس کے رہنے والوں کی خیر اور اس میں موجود خیر کا سوال کرتے ہیں، اور ہم اس بستی کے شر، اس کے رہنے والوں کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور ابو مروان کی وجہ سے سند حسن ہے، ان کی متابعت موجود ہے۔