حدیث نمبر: 2518
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف بن سفيان الطائي بحِمْص، حدثنا أبو المغيرة عبد القُدّوس بن الحجّاج، حدثنا صفوان بن عمرو، عن شُريح بن عُبيد الحَضْرمي، أنه سمع الزُّبَير بن الوليد يحدّث عن عبد الله ابن عمر بن الخطاب، قال: كان رسول الله ﷺ إذا غزا أو سافَر فأدركَه الليلُ، قال: "يا أرضُ، ربِّي وربُّكِ الله، أعوذُ بالله من شَرِّك، وشرِّ ما فيك، وشرِّ ما خُلِقَ فيك، وشرِّ ما دَبَّ عليك، أعوذُ بالله من شرِّ كل أسدٍ وأسوَدَ وحيّةٍ وعقرب، ومن شرِّ ساكنِ البلد، ومن شرِّ والدٍ وما وَلَدَه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2487 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوے یا سفر پر ہوتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے: «يَا أَرْضُ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللهُ، أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّكِ، وَشَرِّ مَا فِيكِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ، أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ» ”اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیری برائی سے، جو کچھ تجھ میں ہے اس کی برائی سے، جو کچھ تجھ میں پیدا کیا گیا اس کی برائی سے اور جو کچھ تجھ پر رینگتا ہے اس کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہر شیر، سیاہ سانپ، بچھو، بستی کے رہنے والے (جنوں) کے شر سے اور باپ اور اس کی اولاد کے شر سے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2518
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتمل للتحسين من أجل الزُّبَير بن الوليد
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين من أجل الزُّبَير بن الوليد، وحسَّن الحافظُ ابن حجر إسنادَه في "نتائج الأفكار" كما في الفتوحات الربانية لابن علّان 5/ 164.» [ترقيم الرساله 2518] [ترقيم الشركة 2501] [ترقيم العلميه 2487]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده محتمل للتحسين من أجل الزُّبَير بن الوليد، وحسَّن الحافظُ ابن حجر إسنادَه في "نتائج الأفكار" كما في الفتوحات الربانية لابن علّان 5/ 164.
درجۂ حدیث: زبیر بن ولید کی وجہ سے سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ حافظ ابن حجر نے 'نتائج الافکار' میں اس کی تحسین کی ہے۔
وقد تقدَّم برقم (1654) من طريق بكر بن سهل الدِّمياطي عن أبي المغيرة.
حوالہ / مصدر: یہ نمبر (1654) پر بکر بن سہل الدمیاطی عن ابی المغیرہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2518 سے ماخوذ ہے۔