المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
إِنَّ اللَّهَ لَيَعْجَبُ إِلَى الْعَبْدِ إِذَا قَالَ : لَا إِلَهَ إَلَّا أَنْتَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي باب: اللہ تعالیٰ اس بندے پر تعجب فرماتا ہے جو کہتا ہے: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا السَّريّ بن خُزيمة، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي، حدثنا فُضيل بن مَرزُوق، عن مَيسَرة بن حبيب النَّهْدي، عن المِنْهال بن عمرو، عن علي بن ربيعة: أنه كان رِدْفًا لعليٍّ، فلما وَضَعَ رِجْلَه في الركاب قال: باسم الله، فلما استوى على ظهر الدابّة، قال: الحمدُ الله - ثلاثًا - والله أكبر - ثلاثًا - ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ الآية [الزخرف: 13]، ثم قال: لا إلهَ إلّا أنتَ سبحانَك، قد ظلمتُ نفسي، فاغفِرْ لي ذُنوبي، إنه لا يغفر الذنوب إلَّا أنتَ، ثم مال إلى أحدِ شِقِّيه فَضَحِكَ، فقلتُ: يا أمير المؤمنين، ما يُضحِكُك. قال: إني كنتُ رِدْفَ النبي ﷺ، فصنع رسولُ الله ﷺ كما صنعتُ، فسألتُه كما سألتَني، فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله لَيَعْجَبُ إلى العبد إذا قال: لا إله إلَّا أنتَ إني قد ظلمتُ نفسي، فاغفِرْ لي ذُنوبي، إنه لا يَغْفِرُ الذنوبَ إلَّا أنت، قال: عبدي عَرَفَ أن له ربًّا يَغْفِرُ ويُعاقِبُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه على هذه السِّياقة منصور بن المُعتمِر عن أبي إسحاق عن علي بن رَبيعة:
علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رکاب میں پاؤں رکھا تو کہا: «باسم الله» ”اللہ کے نام سے“، جب وہ سواری کی پیٹھ پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین بار «الحمد لله» ”اللہ کا شکر ہے“ اور تین بار «الله أكبر» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا، ورنہ ہم اسے قابو میں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے“ [سورة الزخرف: 13]، پھر عرض کیا: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، پس میرے گناہ معاف فرما دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں“، پھر وہ ایک طرف جھک کر مسکرانے لگے، میں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ کو کس بات نے ہنسایا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا تو رسول اللہ ﷺ نے بالکل ویسا ہی کیا تھا جیسا میں نے کیا، پھر میں نے آپ ﷺ سے ویسا ہی پوچھا تھا جیسا تم نے مجھ سے پوچھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» کہ اے اللہ! تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں نے اپنے نفس پر زیادتی کی، پس میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی مغفرت کرنے والا نہیں، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے پہچان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو معاف بھی کرتا ہے اور سزا بھی دیتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور فضیل بن مرزوق کی وجہ سے سند جید ہے، وہ صدوق اور لا باس بہ ہیں۔
وللحديث طريق أخرى عن علي بن ربيعة الوالبي عن علي بن أبي طالب ستأتي بعد هذه، ويرويه عن علي بن ربيعة جماعةٌ كما بينه الدارقطني في "العلل" (430)، وابن حجر في "نتائج الأفكار" فيما نقله عنه ابن عَلَّان في "الفتوحات الربانية" 5/ 125 - 126، وأحسنُها إسنادًا حديثُ المنهال، كما قال الدارقطني. قلنا: لكن باجتماع هذه الطرق يصح الحديثُ إن شاء الله.
متابعات و شواہد: اس حدیث کا ایک اور طریق علی بن ربیعہ الوالبی عن علی بن ابی طالب ہے جو آگے آئے گا۔ دارقطنی اور ابن حجر کے مطابق اس کی بہترین سند 'منہال' کی روایت ہے۔ ان تمام طرق کے مجموعے سے یہ حدیث صحیح قرار پاتی ہے۔