المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
ذِكْرُ ثَلَاثَةٍ هُمْ ضَامِنُونَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى باب: تین ایسے افراد کا بیان جو اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 2481
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، عن الحارث بن يعقوب، عن قيس بن رافع، عن عبد الرحمن بن جُبير، عن عبد الله بن عمرو: أنه مَرَّ بمعاذ بن جبل وهو قائمٌ على بابه، فقال معاذ: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن جاهَدَ في سبيلِ الله، كان ضامِنًا على الله، ومن دخل على إمام يُعزِّرُه، كان ضامِنًا على الله، ومَن جلس في بيتِه لم يَغتَبْ أحدًا بسوءٍ، كان ضامِنًا على الله" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2450 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کے ذمے (ضمانت میں) ہے، اور جو کسی ایسے حکمران کے پاس گیا جس کی وہ تعظیم کرتا ہے وہ بھی اللہ کے ذمے ہے، اور جو اپنے گھر میں بیٹھا رہا اور کسی کی برائی کے ساتھ غیبت نہیں کی وہ بھی اللہ کے ذمے ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وقد تقدم برقم (861) من طريق يحيى بن بكير عن الليث بن سعد.
نوٹ / توضیح: یہ روایت پیچھے نمبر (861) پر گزر چکی ہے۔
يُعزِّره، أي: يُوقِّره ويَنصُره ويُعِينُه.
لغوی تشریح: "یعززہ" کا مطلب ہے اس کی توقیر کرنا، نصرت کرنا اور مدد کرنا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وقد تقدم برقم (861) من طريق يحيى بن بكير عن الليث بن سعد.
نوٹ / توضیح: یہ روایت پیچھے نمبر (861) پر گزر چکی ہے۔
يُعزِّره، أي: يُوقِّره ويَنصُره ويُعِينُه.
لغوی تشریح: "یعززہ" کا مطلب ہے اس کی توقیر کرنا، نصرت کرنا اور مدد کرنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2481 سے ماخوذ ہے۔