المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ باب: تمہارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں جن کے پاس نہ مال ہے نہ قبیلہ، تو تم میں سے ہر ایک انہیں اپنے ساتھ شامل کر لے۔
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الورّاق، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو بكر بن أَبي شَيْبة، حدثنا عَبِيدة بن حُميد، حدثنا الأسود بن قيس، عن نُبَيح العَنَزي، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ: أنه أراد أن يغزوَ، فقال: "يا معشرَ المهاجرين والأنصار، إنَّ من إخوانِكم قومًا ليس لهم مالٌ ولا عَشِيرةٌ، فليَضُمَّ أحدُكم إليه الرجلَين أو الثلاثةَ، وما لأحدنا مِن ظهرِ جملِه إِلَّا عُقْبةٌ كَعُقْبةِ أحدِهم"، قال: فضمَمْتُ إليَّ اثنين أو ثلاثة، ما لي إلّا عُقبةٌ كعُقْبة أحدِهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2451 - صحيحسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوے کا ارادہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: ”اے گروہِ مہاجرین و انصار! تمہارے بھائیوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس نہ مال ہے اور نہ ہی کوئی قبیلہ ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شامل کر لے، اور ہمارے پاس اپنے اونٹ پر سواری کے لیے صرف باری باری کی ہی گنجائش ہے جیسے ان میں سے کسی ایک کی باری ہوگی“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین افراد کو شامل کر لیا اور میری حالت یہ تھی کہ میرے پاس اونٹ پر سواری کی اتنی ہی باری تھی جتنی ان میں سے ہر ایک کی باری تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ نبیح العنزی کوفی راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (14863) عن عَبيدة بن حميد، وأخرجه أبو داود (2534) عن محمد بن سليمان الأنباري، عن عَبيدة بن حميد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابوداؤد (2534) نے عبیدہ بن حمید کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
والعُقبة، بالضم: ركوب مركبٍ واحدٍ بالنَّوبة على التعاقب.
لغوی تشریح: "العقبہ" سے مراد باری باری ایک ہی سواری پر سوار ہونا ہے۔