حدیث نمبر: 2480
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن الأعمش، عن أبي عمرو الشَّيباني، عن أبي مسعود، قال: جاء رجلٌ بناقةٍ مَخْطُومة، فقال: هذا في سبيل الله، فقال رسول الله ﷺ: "لك بها يومَ القيامةِ سبعُ مئة ناقةٍ، كلُّها مَخْطُومة" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجه البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2449 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نکیل لگی ہوئی ایک اونٹنی لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: یہ اللہ کی راہ میں (وقف) ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قیامت کے دن اس کے بدلے ایسی سات سو اونٹنیاں ملیں گی جو سب کی سب نکیل لگی ہوئی ہوں گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن امام بخاری نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2480
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو عمرو الشَّيباني: هو سعد بن إياس.» [ترقيم الرساله 2480] [ترقيم الشركة 2463] [ترقيم العلميه 2449]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو عمرو الشَّيباني: هو سعد بن إياس.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعمرو الشیبانی سے مراد سعد بن ایاس ہیں۔
وأخرجه مسلم (1892)، وابن حبان (4649) من طريقين عن جرير بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم اور ابن حبان نے جریر بن عبدالحمید کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17094) و 37/ (22357) و (22358)، ومسلم (1892)، والنسائي (4381)، وابن حبان (4650) من طريقين عن الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، مسلم، نسائی اور ابن حبان نے امام اعمش کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
قوله: "مخطومة" أي: لها خَطْم تُقاد به، كالرسَن للدابة، فيتمكن صاحبها منها ولا تفرُّ منه.
لغوی تشریح: "مخطومہ" سے مراد وہ اونٹنی ہے جس کی نکیل (مہار) لگی ہو تاکہ اسے قابو کیا جا سکے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2480 سے ماخوذ ہے۔