مستدرکِ حاکم
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَدْ غَزَا باب: جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کا سامان تیار کیا (اسے جہاد کے لیے تیار کیا)، تو یقیناً اس نے بھی غزوہ کیا (یعنی اسے بھی جہاد کا ثواب ملے گا)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن يزيد بن أبي سعيد مولى المَهْري، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَ إلى بني لِحْيانَ، وقال: "لِيَخْرُجْ مِن كلِّ رجُلَين رجلٌ" ثم قال للقاعد: "أيُّكم خَلَفَ الخارجَ في أهلِه ومالِه بخَيرٍ، كان له مثلُ نصفِ أجرِ الخارجِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجَ مسلمٌ وحده (2) حديثَ يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن بُسر ابن سعيد، عن زيد بن خالد: "من جَهّز غازيًا في سبيلِ الله فقد غَزَا" (1).
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لِحین کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو مردوں میں سے ایک شخص (جہاد کے لیے) نکلے“، پھر پیچھے رہ جانے والے سے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی پیچھے رہ کر باہر جانے والے غازی کے اہل و عیال اور اس کے مال کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کرے گا، اسے غازی کے اجر کے نصف کے برابر اجر ملے گا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے تنہا سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کا سامان تیار کیا، اس نے گویا خود غزوہ کیا“۔
من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2429 - صحيح"امام مسلم نے تنہا یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث کو ابوسلمہ، انہوں نے بسر بن سعید اور انہوں نے سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا» ”جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی (مجاہد) کا سامان تیار کیا (اسے جہاد کے لیے لیس کیا)، تو یقیناً اس نے بھی غزوہ کیا (یعنی وہ جہاد کے اجر میں شریک ہو گیا)۔“