المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
من مات ولم يغز ولم يحدث نفسه بالغزو مات على شعبة من نفاق باب: جو شخص مر گیا اور نہ اس نے جہاد کیا اور نہ دل میں جہاد کی نیت کی، وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا۔
حدیث نمبر: 2449
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي وإبراهيم بن محمد الفَقِيه البُخاري، قالا: حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، عن وُهَيب بن الوَرْد، عن عُمر بن محمد بن المُنكَدِر، عن سُمَيٍّ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "من ماتَ ولم يَغْزُ ولم يحدِّث نفسَه بالغَزْوِ، ماتَ على شُعبةٍ من نِفاقٍ" (2). وقد احتجَّ مسلمٌ بوُهَيب بن الوَرْد، و
هذا حديثٌ كبيرٌ لعبد الله بن المبارك، ولم يُخرجاه. وقد تابع عبدُ الله بنُ رجاءٍ المكيُّ وُهَيبَ بنَ الوَرْد على روايته عن عمر بن محمد بن المنكدِر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2418 - رواه ابن المبارك وعبد الله بن رجاء المكي عن وهيب على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے نہ تو کبھی جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اپنے دل میں جہاد کا ارادہ کیا، وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا۔“
امام مسلم نے وہیب بن ورد سے استدلال کیا ہے، اور یہ عبداللہ بن مبارک کی روایت کردہ ایک اہم حدیث ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو المُوجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعَبْدان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة، وعَبْدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك، وسُميّ: هو مولى أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، وأبو صالح: هو ذكوان السَّمَّان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان، اور سمی سے مراد سمی مولى ابی بکر بن عبدالرحمن ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8865)، ومسلم (1910)، وأبو داود (2502)، والنسائي (4290) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (8865)، مسلم (1910)، ابوداؤد (2502) اور نسائی (4290) نے عبداللہ بن المبارک کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: چونکہ یہ صحیح مسلم میں ہے، اس لیے حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی چوک ہے۔
وجاء عند مسلم عقب روايته: قال ابن المبارك: فنُرى أنَّ ذلك كان على عهد رسول الله ﷺ.
نوٹ / توضیح: صحیح مسلم میں ابن المبارک کا یہ قول بھی ہے کہ "ہمارا خیال ہے کہ یہ حکم (جہاد کیے بغیر مرنا) رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھا"۔
وقال النووي: هذا محتمل، وقال غيره: إنه عامٌّ، والمراد أنَّ من فعل هذا فقد أشبه المنافقين المتخلِّفين عن الجهاد، في هذا الوصوف، فإن ترك الجهاد أحدُ شُعَبِ النفاق.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام نووی کے نزدیک یہ قول احتمالی ہے، جبکہ دیگر علماء اسے عام قرار دیتے ہیں کہ جہاد ترک کرنا منافقین کی مشابہت ہے، کیونکہ جہاد سے دوری نفاق کی ایک شاخ ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان، اور سمی سے مراد سمی مولى ابی بکر بن عبدالرحمن ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8865)، ومسلم (1910)، وأبو داود (2502)، والنسائي (4290) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (8865)، مسلم (1910)، ابوداؤد (2502) اور نسائی (4290) نے عبداللہ بن المبارک کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: چونکہ یہ صحیح مسلم میں ہے، اس لیے حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی چوک ہے۔
وجاء عند مسلم عقب روايته: قال ابن المبارك: فنُرى أنَّ ذلك كان على عهد رسول الله ﷺ.
نوٹ / توضیح: صحیح مسلم میں ابن المبارک کا یہ قول بھی ہے کہ "ہمارا خیال ہے کہ یہ حکم (جہاد کیے بغیر مرنا) رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھا"۔
وقال النووي: هذا محتمل، وقال غيره: إنه عامٌّ، والمراد أنَّ من فعل هذا فقد أشبه المنافقين المتخلِّفين عن الجهاد، في هذا الوصوف، فإن ترك الجهاد أحدُ شُعَبِ النفاق.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام نووی کے نزدیک یہ قول احتمالی ہے، جبکہ دیگر علماء اسے عام قرار دیتے ہیں کہ جہاد ترک کرنا منافقین کی مشابہت ہے، کیونکہ جہاد سے دوری نفاق کی ایک شاخ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2449 سے ماخوذ ہے۔