حدیث نمبر: 2438
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبيه، قال: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول إذا ذكر أصحابَ أُحُدٍ: "واللهِ لَوَدِدْتُ أني غُودِرْتُ مع أصحابي بحِضْنِ الجَبَل" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2407 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو شہدائے احد کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میری یہ خواہش تھی کہ میں بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں (شہید ہو کر) چھوڑ دیا جاتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2438
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق: وهو ابن يسار المطَّلبي مولاهم.» [ترقيم الرساله 2438] [ترقيم الشركة 2420] [ترقيم العلميه 2407]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق: وهو ابن يسار المطَّلبي مولاهم.
درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق (ابن یسار المطلبی) کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (15025) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد الزُّهْري، عن أبيه، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد. إلّا أنه قال فيه: "غودرت مع أصحابِ نُحْص الجبلِ"، يعني: سفح الجبل. كذا جاءت الرواية في أكثر نسخه، وفي نسخة منه كرواية الحاكم هنا.
حوالہ / مصدر: امام احمد (15025) نے اسے یعقوب بن ابراہیم بن سعد عن ابیہ عن محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس میں "نحص الجبل" کے الفاظ ہیں جس کا مطلب پہاڑ کا دامن ہے، اکثر نسخوں میں یہی ہے مگر حاکم کی روایت میں "حضن" ہے۔
وحضن الجبل: ما أطاف به أو أصلُه، وهو بكسر الحاء وتُضَم. وسيأتي مكرّرًا برقم (4364)، لكنه هناك بلفظ: "نُحص الجبل"، وزاد فيه مُفسِّرًا قوله "غُودرت": يقول: قُتِلتُ معهم.
نوٹ / توضیح: "حضن الجبل" پہاڑ کے گھیرے یا اس کی جڑ کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ آگے حدیث (4364) میں دوبارہ آئے گا جہاں "نحص الجبل" کے ساتھ "غودرت" کی تفسیر "قتل کر دیا گیا" بتائی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2438 سے ماخوذ ہے۔