المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
إِنَّ لِلشُّهَدَاءِ سَادَةً وَأَشْرَافًا وَمُلُوكًا باب: شہداء کے سردار، معزز اور بادشاہ ہوں گے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن نِسْطاس، عن داود بن المغيرة، عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة، عن أبيه، عن جده، قال: بينما النبيُّ ﷺ بالرَّوحاء إذ هَبَط عليهم أعرابيٌّ من شَرَفٍ (1)، فقال: مَنِ القومُ، أين تُرِيدُونَ؟ قيل: بدرًا مع رسول الله ﷺ، قال: ما لي أراكم بَذَّةً هيئتُكم، قليلًا سِلاحُكم؟ قالوا: ننتظرُ إحدى الحُسنَيَين: إما أن نُقتَلَ فالجنة، وإما أن نَغْلِبَ فيَجمَعَهما اللهُ لنا؛ الظفَرَ والجنةَ، قال: أين نبيُّكم؟ قالوا: ها هو ذا، فقال له: يا نبيَّ الله، ليست لي مَصلَحةٌ، آخُذُ مَصلَحَتي، ثم ألحَقُ، قال: "اذهبْ إلى أهلك، فخُذْ مَصلَحَتك"، فخرج رسولُ الله ﷺ يَؤُمُّ بدرًا، وخرج الرجلُ إلى أهله حتى فَرَغَ من حاجتِه، ثم لَحِقَ برسول الله ﷺ ببدرٍ، وهو يَصُفُّ الناسَ للقتال في تَعبئتِهم، فدخل في الصفِّ معهم، فاقتَتلَ الناسُ، فكان فيمن استَشْهَدَه اللهُ، فقام رسولُ الله ﷺ بعد أن هزمَ اللهُ المشركين وأَظْفرَ المؤمنين، فمرَّ بين ظَهْرانَيِ الشُّهداء وعمرُ بن الخطاب معه، فقال رسول الله ﷺ: "ها يا عُمَرُ، إنك تحبُّ الحديثَ، وإنَّ للشهداءِ سادَةً وأشرافًا وملوكًا، وإنَّ هذا يا عمرُ منهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2406 - لا والله إسحاق بن إبراهيم بن نسطاس واهسیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مقام روحاء میں تھے کہ ایک اعرابی بلندی سے اتر کر آپ ﷺ کے پاس آیا اور پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں اور آپ کا ارادہ کہاں جانے کا ہے؟“ اسے بتایا گیا: ”یہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مقامِ بدر (کی طرف جا رہے) ہیں۔“ اس نے کہا: ”کیا بات ہے میں آپ لوگوں کی حالت شکستہ دیکھ رہا ہوں اور آپ کے پاس اسلحہ بھی کم ہے؟“ صحابہ نے جواب دیا: ”ہم دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہیں: یا تو ہم قتل کر دیے جائیں گے تو ہمیں جنت ملے گی، یا پھر ہم غالب آ جائیں گے تو اللہ ہمارے لیے دونوں چیزیں یعنی فتح اور جنت جمع فرما دے گا۔“ اس نے پوچھا: ”آپ کے نبی کہاں ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ رہے۔“ اس نے آپ ﷺ سے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! میرے پاس میرا جنگی سامان (اسلحہ) نہیں ہے، میں اپنا سامان لے لوں پھر آپ سے آ ملتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اور اپنا سامان لے لو۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف روانہ ہوئے اور وہ شخص اپنے گھر چلا گیا یہاں تک کہ اپنی ضرورت سے فارغ ہوا، پھر وہ بدر کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے آ ملا جبکہ آپ ﷺ لوگوں کی قتال کے لیے صف بندی فرما رہے تھے، وہ بھی ان کے ساتھ صف میں شامل ہو گیا، پھر لوگوں نے قتال کیا اور وہ ان لوگوں میں شامل تھا جنہیں اللہ نے شہادت کا رتبہ عطا فرمایا۔ جب اللہ نے مشرکین کو شکست دے دی اور مومنین کو فتح عطا فرمائی تو رسول اللہ ﷺ شہداء کے درمیان سے گزرے جبکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ہمراہ تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! سنو، تم باتیں (حکمت و عبرت کے واقعات) پسند کرتے ہو، یقیناً شہداء کے بھی سردار، معززین اور بادشاہ ہوتے ہیں، اور اے عمر! یہ شخص انہی میں سے ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: اس سے مراد وہ بلند مقام ہے جو گردونواح پر حاوی ہو، بظاہر یہ وہی جگہ ہے جسے "شرف الروحاء" کہا جاتا ہے، جو مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے 74 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بستی ہے۔
(1) إسناده ضعيف لضعف إسحاق بن إبراهيم بن نِسطاس، وقال الذهبي: هو واهٍ.
درجۂ حدیث: اس کی سند اسحاق بن ابراہم بن نسطاس کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، امام ذہبی نے انہیں "واہی" (نہایت کمزور) قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 124 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "دلائل النبوہ" 3/ 124 میں ابوعبداللہ الحاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه سمويه في "فوائده" (116)، ومن طريقه أبو نعيم في "أخبار أصفهان" 2/ 180 - 181 عن محمد بن يحيى، عن إبراهيم بن حمزة، به.
حوالہ / مصدر: اسے سمویہ نے اپنی "فوائد" (116) میں اور ان کے طریق سے ابونعیم نے "اخبار اصفہان" 2/ 180-181 میں روایت کیا ہے۔
قوله: "بَذَّة هيئتكم" أي: رَثَّة لِبْستُكم.
نوٹ / توضیح: "بذة ہیئتکم" سے مراد ہے تمہارا لباس بوسیدہ یا پراگندہ حال ہونا۔
وقوله: "مَصْلَحة" كأنه أراد ما يصلُح به أمري للقتال من عُدَّة الحرب.
نوٹ / توضیح: "مصلحہ" سے بظاہر وہ جنگی ساز و سامان مراد ہے جس سے لڑائی کے معاملات درست ہوں۔