المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ باب: اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 2179
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا خالدٌ الحذّاء، عن أبي مَعْشَر، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ: "لِيَليَنِّي منكم أُولُو الأحلام والنُّهى، ثم الذين يَلُونهم، ثم الذين يَلُونهم، ولا تختَلِفُوا فتختلفَ قلوبُكم، وإياكُم وهَيْشاتِ الأسواق" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2150 - لم يخرجه البخاري وهو على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے وہ لوگ میرے قریب رہیں جو عقل مند اور سمجھدار ہیں، پھر وہ جو ان کے قریب ہیں، پھر وہ جو ان کے قریب ہیں، اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور بازاروں کے شور و ہنگامہ (اور بے ہودہ کلام) سے بچو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن امام بخاری نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. خالد الحذّاء: هو ابن مهران، وأبو معشر: هو زياد بن كليب، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي، وعلقمة: هو ابن قيس النَّخَعي.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند
صحیح ہے۔ اس میں خالد الحذاء اور ابراہیم نخعی جیسے جلیل القدر راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (675) عن مُسدَّد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے مسدد کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (432)، والترمذي (228)، وابن حبان (2180) من طرق عن يزيد بن زُريع، به.
وانظر لأوله حديث أبي مسعود البدري السالف برقم (891).
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، ترمذی اور ابن حبان نے یزید بن زریع کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس کے ابتدائی حصے کے لیے ابو مسعود البدریؓ کی سابقہ حدیث نمبر (891) ملاحظہ فرمائیں۔
هيشات الأسواق: اختلاطها وما يُوكَسُ فيها الإنسان ويُغبَن، وأن يُحتال عليه فيُسرَق.
لغوی تشریح:
"ہیشات الاسواق" سے مراد بازاروں کا شور و غل، افراتفری، دھوکہ دہی، ناپ تول میں کمی اور لوٹ مار کے خدشات ہیں۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند
صحیح ہے۔ اس میں خالد الحذاء اور ابراہیم نخعی جیسے جلیل القدر راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (675) عن مُسدَّد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے مسدد کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (432)، والترمذي (228)، وابن حبان (2180) من طرق عن يزيد بن زُريع، به.
وانظر لأوله حديث أبي مسعود البدري السالف برقم (891).
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، ترمذی اور ابن حبان نے یزید بن زریع کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس کے ابتدائی حصے کے لیے ابو مسعود البدریؓ کی سابقہ حدیث نمبر (891) ملاحظہ فرمائیں۔
هيشات الأسواق: اختلاطها وما يُوكَسُ فيها الإنسان ويُغبَن، وأن يُحتال عليه فيُسرَق.
لغوی تشریح:
"ہیشات الاسواق" سے مراد بازاروں کا شور و غل، افراتفری، دھوکہ دہی، ناپ تول میں کمی اور لوٹ مار کے خدشات ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2179 سے ماخوذ ہے۔