حدیث نمبر: 213
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزيَد البيروتي، أخبرني أبي قال: سمعت الأوزاعيَّ يقول: حدثني أبو كثير الزُّبيدي، عن أبيه؛ وكان يجالس أبا ذرٍّ، قال: فجمع حديثًا، فلقي أبا ذر وهو عند الجَمْرة الوسطى وحولَه الناس، قال: فجلستُ إليه حتى مسَّت رُكبتي ركبته، فنسيت ذلك الحديث، وتفلَّتَ مني كلُّ شيء شيء أردتُ أن أسأله عنه، فرفعتُ رأسي إلى السماء فجعلتُ أتذكَّر، فقلت: يا أبا ذر دُلَّني على عمل إذا عَمِلَ به العبدُ دخل الجنة، قال: قال رسول الله ﷺ: "تؤمن بالله" قلت: يا رسول الله، إنَّ مع الإيمان عملًا؟ قال: "يَرضَخُ مما رَزَقَه الله" قلت: يا رسول الله، فإن كان مُعدِمًا لا شيء له؟ قال: "يقولُ معروفًا بلسانه" قلت: فإن كان عَيبًا لا يُبلِّغ عنه لسانُه؟ قال: "فليُعن مغلوبًا" قلت: فإن كان ضعيفًا لا قوَّةَ له؟ قال: "فليَصنَعْ لأخرَقَ" قلت: فإن كان أخرق؟ فالتفت إليَّ فقال: "ما تريد أن تَدَعَ في صاحبك خيرًا؟ " قال: "يَدَعُ الناسَ من أذاهُ" قلت: يا رسول الله، إنَّ هذا ليسيرٌ كلُّه، قال: "والذي نفسي بيده ما منهنَّ خَصْلَةٌ يَعْمَلُ بها عبدٌ يبتغي بها وجه الله، إلَّا أَخَذَت بيده يوم القيامة فلم تُفارقه حتى تُدخِلَه الجنة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتج في كتابه بأبي كثير الزُّبيدي واسمه يزيد بن عبد الرحمن بن أُذينة، وهو تابعيٌّ معروف يقال له: أبو كثير الأعمى، وهذا الحديث لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 212 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

ابو کثیر زبیدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں (جو کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس جمرہ وسطیٰ کے قریب بیٹھے جہاں لوگ ان کے گرد جمع تھے) وہ کہتے ہیں کہ میں ان کے اتنے قریب بیٹھ گیا کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں سے چھونے لگے، اسی دوران میں وہ حدیث بھول گیا جو میں پوچھنے آیا تھا، میں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر اسے یاد کرنے کی کوشش کی اور عرض کیا: اے ابوذر! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کر کے بندہ جنت میں داخل ہو جائے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ایمان کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے (دوسروں کو) کچھ عطا کرے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی ایسا محتاج ہو جس کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی زبان سے بھلی بات کہے۔“ میں نے عرض کیا: اگر وہ (زبان سے معذور ہو اور) بات نہ کر سکتا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مغلوب و مظلوم کی مدد کرے۔“ میں نے عرض کیا: اگر وہ خود اتنا کمزور ہو کہ اس میں مدد کی طاقت نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی اناڑی یا کام نہ جاننے والے کا کام کر دے۔“ میں نے عرض کیا: اگر وہ خود ہی اناڑی ہو؟ تو آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم اپنے ساتھی میں کوئی بھی خیر باقی نہیں رہنے دینا چاہتے؟“ (پھر) فرمایا: ”وہ لوگوں کو اپنی اذیت سے محفوظ رکھے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ سب تو بہت آسان ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے جو بھی خصلت کوئی بندہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اختیار کرے گا، وہ قیامت کے دن اس کا ہاتھ تھام لے گی اور اسے جنت میں داخل کر کے ہی چھوڑے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب میں ابو کثیر زبیدی (یزید بن عبدالرحمن) سے احتجاج کیا ہے جو کہ ایک معروف تابعی ہیں، لیکن شیخین نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 213
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا الإسناد لم يُقِمه العباس بن الوليد -وهو صدوق لا بأس به- وأقامه عبد الرحمن بن إبراهيم الملقَّب بدُحيم -وهو أحفظ وأوثق وأتقن من العباس- فرواه عن الأوزاعي قال: حدثني أبو كثير السُّحيمي عن أبيه قال: سألت أبا ذر -- فذكره، أخرجه من هذا الطريق ابن حبان في ...» [ترقيم الرساله 213] [ترقيم الشركة 212] [ترقيم العلميه 212]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن، وهذا الإسناد لم يُقِمه العباس بن الوليد -وهو صدوق لا بأس به- وأقامه عبد الرحمن بن إبراهيم الملقَّب بدُحيم -وهو أحفظ وأوثق وأتقن من العباس- فرواه عن الأوزاعي قال: حدثني أبو كثير السُّحيمي عن أبيه قال: سألت أبا ذر .. فذكره، أخرجه من هذا الطريق ابن حبان في "صحيحه" (373)، وسمَّى أبا كثير السحيمي هذا يزيد بن عبد الله بن أذينة، ويقال: يزيد بن عبد الرحمن أذينة، وهو ثقة من رجال مسلم، وأبوه لم نتبينه، لكن يُفهم من رواية الحاكم أنه كان من جلساء أبي ذر. وأما أبو كثير الزبيدي فهو راوٍ آخر كوفيٌّ ولم يخرج له مسلم شيئًا، وعليه فإنَّ كلام المصنف بإثر الحديث فيه وهمٌ وتخليط.
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔
فنی نکتہ / وہم: اس سند کو امام دحیم نے زیادہ درست طریقے سے بیان کیا ہے۔ امام حاکم کو یہاں راویوں کے ناموں میں وہم اور خلط ملط (تخلیط) ہوا ہے، انہوں نے ابوکثیر السحیمی (جو ثقہ ہیں) اور ابوکثیر الزبیدی (کوفی) کے درمیان فرق نہیں کیا۔
وأخرجه البيهقي في شعب الإيمان (3055) عن أربعة مشايخ - أحدهم أبو عبد الله الحاكم - عن أبي العباس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد - وفيه: حدثني أبو كثير عن أبيه، ولم ينسبه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "شعب الایمان" (3055) میں ابوعبداللہ الحاکم سمیت چار اساتذہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" 11/ 17، والطبراني في "الكبير" (1650)، والبيهقي في "الشعب" (3057) من طريق عكرمة بن عمار، عن أبي زُميل سماك بن الوليد، عن مرثد بن مرثد عبد الله الزِّماني، عن أبيه، عن أبي ذر. وهذا إسناد محتمل للتحسين، وهو يشدُّ الإسناد السابق.
درجۂ حدیث: اس سند میں "تحسین" (حسن ہونے) کا احتمال ہے اور یہ گزشتہ اسناد کو تقویت فراہم کرتی ہے۔
حوالہ: اسے ابن ابی شیبہ، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
وأخرج نحوه البزار (4078) من طريق العوام بن جويرية، عن الحسن البصري، عن أبي ذر. وهذا إسناد ضعيف لضعف العوّام، والحسن لم يدرك أبا ذر فهو منقطع أيضًا.

وأخرج البخاري (2518)، ومسلم (84) من طريق أبي مراوح، عن أبي ذر قال: سألت النبي ﷺ: أيُّ العمل أفضل؟ قال: "إيمان بالله، وجهاد في سبيله" قلت: فأيُّ الرّقاب أفضل؟ قال: "أغلاها ثمنًا، وأنفسُها عند أهلها" قلت: فإن لم أفعل؟ قال: "تُعِين صانعًا أو تصنع لأخرق" قال: فإن لم أفعل؟ قال: "تدعُ الناس من الشر، فإنها صدقة تصدَّقُ بها على نفسك".

درجۂ حدیث: بزار کی روایت "ضعیف" ہے کیونکہ اس میں عوام بن جویریہ ضعیف ہے اور حسن بصری کا حضرت ابوذر سے انقطاع ہے۔
اہم نکتہ: اس موضوع کی اصل اور صحیح ترین روایت بخاری (2518) اور مسلم (84) میں ابومراوح عن ابی ذر کے طریق سے موجود ہے۔
الرَّضْخ: العطيّة القليلة.
نوٹ / توضیح: "الرضخ" سے مراد وہ معمولی عطیہ یا تحفہ ہے جو مقدار میں کم ہو۔
والأخرق: من ليس في يده صنعة.
نوٹ / توضیح: "الاخرق" سے مراد وہ شخص ہے جو کسی ہنر یا صنعت سے واقف نہ ہو (بے ہنر)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 213 سے ماخوذ ہے۔