المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
التَّعَوُّذُ مِنْ زَوَالِ النِّعْمَةِ وَالْفَقْرِ باب: نعمت کے زوال اور فقر سے پناہ کی دعا۔
حدیث نمبر: 1968
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن الوليد الفَحّام وموسى بن الحسن بن عبّاد قالا: حدثنا محمد بن مصعب القَرْقَساني، حدثنا الأَوزاعي، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن جعفر بن عِياض، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "تَعوَّذوا بالله من الفقر والقِلّة والذِّلّة، وأن تَظلِمَ أو تُظْلَمَ (3) " (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ مانگو فقر سے، کمی (تنگ دستی) سے، ذلت سے، اور اس بات سے کہ تم کسی پر ظلم کرو یا تم پر ظلم کیا جائے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في (ز): وأن تظلم.
توضیح: نسخہ 'ز' میں "وأن تظلم" کے الفاظ درج ہیں۔
(4) صحيح لغيره، وهذا إسناد اختُلف فيه على إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة في تعيين راويه عن أبي هريرة، فرواه الأوزاعي - وهو عبد الرحمن بن عمرو - عنه كما في رواية المصنف
هنا وغيره فقال: عن جعفر بن عياض، وخالف الأوزاعيَّ فيه حماد بنُ سلمة كما سيأتي عند المصنف برقم (2006) فرواه عن إسحاق، فقال: عن سعيد بن يسار، فأما سعيد هذا فهو ثقة، وأما جعفر بن عياض فلم يرو عنه غير إسحاق، لكن ذكره ابن حبان في ثقات التابعين وصحَّح حديثَه هذا، فيُحتمل تحسين حديثه، ونظرًا لهذا الاختلاف فيه بين الأوزاعي وحماد بن سلمة قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 5/ 282: هذا يحطُّه عن درجة الصحيح. وحسَّنه من حديث أبي هريرة، وإلّا فله شواهدُ يصحُّ بها لا محالة. ومحمد بن مصعب القَرْقَساني فيه ضعف لكنه متابَع.
حکم / درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "صحیح" ہے۔ سند میں جعفر بن عیاض کے بارے میں اختلاف ہے، حافظ ابن حجر کے بقول یہ اسے صحیح سے حسن درجے پر لے آتا ہے، مگر شواہد اسے تقویت دیتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 16/ (10973)، وابن ماجه (3842) من طريق محمد بن مصعب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور ابن ماجہ نے اسے محمد بن مصعب القرقسانی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (7845)، وابن حبان (1003) من طريق الوليد بن مسلم، و (7846) من طريق عمر بن عبد الواحد، و (7848) من طريق موسى بن شيبة الحضرمي المصري، ثلاثتهم عن أبي عمرو الأوزاعي، به.
حوالہ / مصدر: امام نسائی اور ابن حبان نے اسے امام اوزاعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد للاستعاذة من الفقر والقلّة والذِّلّة حديث أنس الذي تقدَّم برقم (1965)، وسنده صحيح.
متابعات و شواہد: فقر، قلت اور ذلت سے پناہ مانگنے کا شاہد حضرت انسؓ کی صحیح سند والی حدیث میں موجود ہے۔
ويشهد للاستعاذة من أن يَظلِم الإنسان أو يُظلَم حديث أم سلمة الذي تقدَّم برقم (1928)، وإسناده صحيح كذلك.
متابعات و شواہد: ظلم کرنے یا ظلم سہنے سے پناہ مانگنے کا شاہد حضرت ام سلمہؓ کی صحیح حدیث میں موجود ہے۔
توضیح: نسخہ 'ز' میں "وأن تظلم" کے الفاظ درج ہیں۔
(4) صحيح لغيره، وهذا إسناد اختُلف فيه على إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة في تعيين راويه عن أبي هريرة، فرواه الأوزاعي - وهو عبد الرحمن بن عمرو - عنه كما في رواية المصنف
هنا وغيره فقال: عن جعفر بن عياض، وخالف الأوزاعيَّ فيه حماد بنُ سلمة كما سيأتي عند المصنف برقم (2006) فرواه عن إسحاق، فقال: عن سعيد بن يسار، فأما سعيد هذا فهو ثقة، وأما جعفر بن عياض فلم يرو عنه غير إسحاق، لكن ذكره ابن حبان في ثقات التابعين وصحَّح حديثَه هذا، فيُحتمل تحسين حديثه، ونظرًا لهذا الاختلاف فيه بين الأوزاعي وحماد بن سلمة قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 5/ 282: هذا يحطُّه عن درجة الصحيح. وحسَّنه من حديث أبي هريرة، وإلّا فله شواهدُ يصحُّ بها لا محالة. ومحمد بن مصعب القَرْقَساني فيه ضعف لكنه متابَع.
حکم / درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "صحیح" ہے۔ سند میں جعفر بن عیاض کے بارے میں اختلاف ہے، حافظ ابن حجر کے بقول یہ اسے صحیح سے حسن درجے پر لے آتا ہے، مگر شواہد اسے تقویت دیتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 16/ (10973)، وابن ماجه (3842) من طريق محمد بن مصعب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور ابن ماجہ نے اسے محمد بن مصعب القرقسانی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (7845)، وابن حبان (1003) من طريق الوليد بن مسلم، و (7846) من طريق عمر بن عبد الواحد، و (7848) من طريق موسى بن شيبة الحضرمي المصري، ثلاثتهم عن أبي عمرو الأوزاعي، به.
حوالہ / مصدر: امام نسائی اور ابن حبان نے اسے امام اوزاعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد للاستعاذة من الفقر والقلّة والذِّلّة حديث أنس الذي تقدَّم برقم (1965)، وسنده صحيح.
متابعات و شواہد: فقر، قلت اور ذلت سے پناہ مانگنے کا شاہد حضرت انسؓ کی صحیح سند والی حدیث میں موجود ہے۔
ويشهد للاستعاذة من أن يَظلِم الإنسان أو يُظلَم حديث أم سلمة الذي تقدَّم برقم (1928)، وإسناده صحيح كذلك.
متابعات و شواہد: ظلم کرنے یا ظلم سہنے سے پناہ مانگنے کا شاہد حضرت ام سلمہؓ کی صحیح حدیث میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1968 سے ماخوذ ہے۔