المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
التَّعَوُّذُ مِنْ زَوَالِ النِّعْمَةِ وَالْفَقْرِ باب: نعمت کے زوال اور فقر سے پناہ کی دعا۔
حدیث نمبر: 1967
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحُسين بن الحسن ومحمد بن إسماعيل، قالا: حدثنا هارون بن سعيد الأَيلي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني حفص بن مَيسَرة ويعقوب بن عبد الرحمن، عن موسى بن عُقبة، عن عبد الله بن دِينار، عن ابن عمر: أنَّ رسولَ الله ﷺ كان يدعو فيقول: "اللهمَّ إني أعوذُ بك من زَوال نِعْمتِك، ومن تحوُّل عافيتِك، ومن فُجَاءة نِقْمتِك، ومن جميع سَخَطِك" (1). قال ابنُ وهب: ذكرَه يعقوبُ عن عبد الله بن دِينار عن ابن عمر، وأرسلَه حفصٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوالِ نِعْمَتِكَ، وَمِنْ تَحَوُّلِ عافِيَتِكَ، وَمِنْ فُجاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَمِنْ جَمِيعِ سَخَطِكَ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے چھن جانے سے، تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے سے، تیری ناگہانی پکڑ سے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے۔“ ابن وہب کہتے ہیں کہ یعقوب نے اسے ابن عمر سے موصولاً بیان کیا جبکہ حفص نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. يعقوب بن عبد الرحمن: هو الزهري الإسكندراني.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یعقوب بن عبدالرحمن ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه مسلم (2739) والنسائي (7901)، وأبو داود (1545)، والنسائي (7900) من طريقين عن يعقوب بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے۔
(2) مثل ذلك لا يضر بصحة الرواية الموصولة، لأن المسنِدَ ثقة مُتقِن.
توضیح: روایت کے الفاظ میں معمولی فرق سند کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ اس کا راوی ثقہ اور ماہر ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یعقوب بن عبدالرحمن ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه مسلم (2739) والنسائي (7901)، وأبو داود (1545)، والنسائي (7900) من طريقين عن يعقوب بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، نسائی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے۔
(2) مثل ذلك لا يضر بصحة الرواية الموصولة، لأن المسنِدَ ثقة مُتقِن.
توضیح: روایت کے الفاظ میں معمولی فرق سند کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا کیونکہ اس کا راوی ثقہ اور ماہر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1967 سے ماخوذ ہے۔