المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى باب: صبح اور شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشيم، أخبرنا يعلى بن عطاء، عن عمرو بن عاصم، عن أبي هريرة: أنَّ أبا بكر الصِّدّيق سأل النبيَّ ﷺ فقال: مُرْني بكلماتٍ أقولُهن إذا أصبحتُ وإذا أمسيتُ، فقال: "قل: اللهمَّ فاطرَ السماواتِ والأرضِ، عالمَ الغَيبِ والشهادةِ، ربَّ كلِّ شيءٍ ومَليكَه، أشهدُ أن لا إلهَ إلَّا أنتَ، أعوذُ بك من شرِّ نفْسي، ومن شَرِّ الشيطانِ وشِرْكِه"، فقال: "قُلْها إذا أصبحتَ وإذا أمسيتَ، وإذا أخذت مَضجَعكَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے ایسے کلمات کا حکم دیجیے جنہیں میں صبح اور شام کے وقت پڑھا کروں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور ظاہر کے جاننے والے، ہر چیز کے رب اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک (یا پھندے) سے تیری پناہ مانگتا ہوں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں صبح کے وقت، شام کے وقت اور جب بستر پر سونے کے لیے جاؤ تب پڑھا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ عمرو بن عاصم: یہ ثقفی راوی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (5067)، والنسائي (7644) و (7652) و (10326) من طرق عن هُشيم بن بشير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (5067) اور نسائی نے ہشیم بن بشیر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 1/ (51)، و (63) و 13/ (7961)، والترمذي (3392)، والنسائي (7668) و (9755) و (10563)، وابن حبان (962) من طريق شعبة بن الحجاج، عن يعلى بن عطاء، به. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حکم / درجۂ حدیث: اسے امام احمد، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے شعبہ بن الحجاج کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔