حدیث نمبر: 185
أخبرناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن ملحان، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثني الليث، عن سعيد بن أبي هلال، عن علي بن خالد (2) قال: مرَّ أبو أُمامة الباهلي على خالد بن يزيد بن معاوية، فسأله عن أَليَن كلمةٍ سمعها من رسول الله ﷺ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "كلكم يدخلُ الجنةَ إِلَّا من شَرَدَ على الله شِرَادَ البعير على أهلِه" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 184 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

علی بن خالد سے روایت ہے کہ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا گزر خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے ہوا، تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سب سے نرم بات کون سی سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم سب جنت میں داخل ہو گے سوائے اس شخص کے جو اللہ سے اس طرح بدک کر بھاگ جائے جیسے اونٹ اپنے مالکوں سے بدک کر بھاگ جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 185
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل علي بن خالد» [ترقيم الرساله 185] [ترقيم الشركة 184] [ترقيم العلميه 184]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ب): عن أبي خالد، وهو خطأ، ولا تعرف لعلي هذا كُنية.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں "عن ابی خالد" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، کیونکہ راوی علی (بن خالد) کی کوئی کنیت معلوم نہیں ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل علي بن خالد.
درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "صحیح لغیرہ" ہے، اور علی بن خالد کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (2226) عن قتيبة بن سعيد، عن ليث -وهو ابن سعد- بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (36/2226) میں قتیبہ بن سعید عن لیث بن سعد کی سند سے اسی طریق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7819) من طريق عمرو بن الحارث عن سعيد بن أبي هلال. ويشهد له ما قبله.
اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7819) پر عمرو بن الحارث کے طریق سے آئے گی، اور سابقہ روایات اس کی تائید کرتی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 185 سے ماخوذ ہے۔