المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
الدُّعَاءُ إِذَا قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ باب: سفر سے واپس آنے پر پڑھی جانے والی دعا۔
حدیث نمبر: 1815
حدثنا عبد الصمد بن علي البزّاز إملاءً ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا يعقوب بن إسحاق الحَضْرمي، حدثنا زائدة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباسٍ قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا قَدِمَ من سفرٍ فرأَى أهلَه قال: "أَوْبًا أوْبًا، إلى ربِّنا تَوْبًا (2) لا يغادرُ علينا حَوْبًا" (3).
هذا حديث صحيح بين الشيخين، لأنَّ البخاري تفرَّد بالاحتجاج بعكرمة، ومسلم بسِمَاك بن حرب، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپسی پر اپنے گھر والوں کو دیکھتے تو یہ دعا فرماتے: «أَوْبًا أَوْبًا، إِلَى رَبِّنَا تَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» ”(ہم) رجوع کرنے والے ہیں، رجوع کرنے والے ہیں، اپنے رب کی طرف ایسی توبہ کرنے والے ہیں جو ہم پر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک بن حرب سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرفت هذه اللفظة في (ز) و"تلخيص الذهبي" إلى: حوبًا، وسقطت من (ص) و (ع)، وأثبتناها من (ب)، ووقع في "الدعوات الكبير" للبيهقي (479) حيث رواه من طريق المصنف بهذا الإسناد: توبًا أوبًا، وإلى ربنا أوبًا، لا يغادر علينا حوبًا".
فنی نکتہ: نسخہ (ز) میں یہ لفظ "حوباً" ہے، بیہقی کے مطابق مکمل دعا یوں ہے: "توباً اوباً، وإلى ربنا اوباً، لا يغادر علينا حوباً" (توبہ کرتے ہوئے، اپنے رب کی طرف لوٹتے ہوئے، وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے)۔
(3) إسناده حسن إن شاء الله، وحسَّن هذا الحديث الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" فيما
نقله عنه ابن علان في "الفتوحات الربانية" 5/ 172. زائدة: هو ابن قدامة.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ یہ سند "حسن" ہے۔ حافظ ابن حجر نے بھی اس کی تحسین کی ہے۔
فنی نکتہ: زائدہ سے مراد ابن قدامہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2311) و (2727)، وابن حبان (2716) من طريق أبي الأحوص، عن سماك بن حرب، بهذا الإسناد. ضمن حديث ما يقول إذا أراد السفر، وإذا أراد الرجوع، وفي آخره قال: وإذا دخل أهله قال: "توبًا توبًا، لربنا أوبًا، لا يغادر علينا حوبًا".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان (2716) نے ابوالاحوص عن سماک کے طریق سے روایت کیا ہے کہ سفر سے واپسی پر گھر میں داخل ہوتے وقت یہ کلمات کہے جائیں۔
قوله: "توبًا" قال النووي في "الأذكار": سؤال للتوبة، وهو منصوب إما على تقدير: تب علينا، وإما على تقدير: أسألك توبًا، و"أوبًا" بمعناه من آبَ: إذا رجع، ومعنى: "لا يغادر": لا يترك، و"حوبًا": إثمًا، وهو بفتح الحاء وضمها لغتان.
توضیح: امام نووی کے مطابق "توباً" کا مطلب توبہ کا سوال کرنا ہے، "اوباً" کا مطلب رجوع کرنا، "لا یغادر" کا مطلب نہیں چھوڑتا، اور "حوباً" کا مطلب گناہ ہے۔
فنی نکتہ: نسخہ (ز) میں یہ لفظ "حوباً" ہے، بیہقی کے مطابق مکمل دعا یوں ہے: "توباً اوباً، وإلى ربنا اوباً، لا يغادر علينا حوباً" (توبہ کرتے ہوئے، اپنے رب کی طرف لوٹتے ہوئے، وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے)۔
(3) إسناده حسن إن شاء الله، وحسَّن هذا الحديث الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" فيما
نقله عنه ابن علان في "الفتوحات الربانية" 5/ 172. زائدة: هو ابن قدامة.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ یہ سند "حسن" ہے۔ حافظ ابن حجر نے بھی اس کی تحسین کی ہے۔
فنی نکتہ: زائدہ سے مراد ابن قدامہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2311) و (2727)، وابن حبان (2716) من طريق أبي الأحوص، عن سماك بن حرب، بهذا الإسناد. ضمن حديث ما يقول إذا أراد السفر، وإذا أراد الرجوع، وفي آخره قال: وإذا دخل أهله قال: "توبًا توبًا، لربنا أوبًا، لا يغادر علينا حوبًا".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن حبان (2716) نے ابوالاحوص عن سماک کے طریق سے روایت کیا ہے کہ سفر سے واپسی پر گھر میں داخل ہوتے وقت یہ کلمات کہے جائیں۔
قوله: "توبًا" قال النووي في "الأذكار": سؤال للتوبة، وهو منصوب إما على تقدير: تب علينا، وإما على تقدير: أسألك توبًا، و"أوبًا" بمعناه من آبَ: إذا رجع، ومعنى: "لا يغادر": لا يترك، و"حوبًا": إثمًا، وهو بفتح الحاء وضمها لغتان.
توضیح: امام نووی کے مطابق "توباً" کا مطلب توبہ کا سوال کرنا ہے، "اوباً" کا مطلب رجوع کرنا، "لا یغادر" کا مطلب نہیں چھوڑتا، اور "حوباً" کا مطلب گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1815 سے ماخوذ ہے۔