حدیث نمبر: 1776
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا يونس بن يزيد، عن الزُّهري: أنَّ رسولَ الله ﷺ كان إذا رَمَى الجَمْرة التي تلي مسجدَ مِنًى يرميها بسَبعِ حَصَياتٍ، يكبِّر كلَّما رَمَى بحصاةٍ، ثم تقدَّم أمامَها فوقفَ مُستقبِلَ البيتِ رافعًا يديه يدعو، وكان يُطيلُ الوقوف، ثم يأتي الجَمْرَة الثانية فيَرميها بسَبعِ حَصَياتٍ يُكبِّر كلَّما رمى بحصاةٍ، ثم يَنحدِر ذاتَ اليَسار مما يلي الوادي، فيقف مُستقبِلَ القِبلةِ رافعًا يديه، ثم يأتي الجَمْرةَ التي عند العَقَبة فيرميها بسَبعِ حَصَياتٍ يُكبِّر عند كلِّ حصاةٍ، ثم ينصرفُ ولا يقومُ عندها. قال الزُّهري: سمعتُ سالمَ بن عبد الله يحدِّث بمِثلِ هذا عن أبيه عن النبيِّ ﷺ. قال: وكان ابنُ عمر يفعلُه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس جمرہ کو کنکریاں مارتے جو منیٰ کی مسجد کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے، پھر اس کے آگے بڑھ کر قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا فرماتے اور طویل قیام کرتے، پھر دوسرے جمرہ پر آتے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے، پھر وادی کی بائیں جانب ڈھلوان میں اترتے اور قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہوتے، پھر جمرہ عقبہ پر آتے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے، پھر واپس لوٹ جاتے اور وہاں قیام نہیں فرماتے تھے۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ کو اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے سنا ہے، اور ابن عمر بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1776
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن يحيى: هو الذهلي، وعثمان بن عمر: هو ابن فارس العبدي، ويونس بن يزيد: هو الأيلي، والزهري: هو محمد بن مسلم بن شهاب.» [ترقيم الرساله 1776] [ترقيم الشركة 1763]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. محمد بن يحيى: هو الذهلي، وعثمان بن عمر: هو ابن فارس العبدي، ويونس بن يزيد: هو الأيلي، والزهري: هو محمد بن مسلم بن شهاب.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: محمد بن یحییٰ سے مراد الذہلی، عثمان بن عمر سے مراد ابن فارس العبدی اور زہری سے مراد محمد بن مسلم بن شہاب ہیں۔
وعلَّقه البخاري (1753) فقال: وقال محمد: حدثنا عثمان بن عمر … فذكره بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام بخاری (1753) نے اسے معلقاً ذکر کیا اور کہا: "محمد نے کہا: ہمیں عثمان بن عمر نے حدیث بیان کی..."۔
هكذا أهمل محمدًا شيخه، وقد اختُلف في تسميته، فقيل: هو محمد بن بشار، وقيل: محمد بن المثنى، وقيل: محمد بن يحيى الذهلي، ورواية الحاكم هذه ترجح أنه الذهلي، والله أعلم.
فنی نکتہ: امام بخاری کے استاد 'محمد' کے نام میں اختلاف ہے کہ وہ ابن بشار ہیں، ابن المثنیٰ ہیں یا الذہلی؛ امام حاکم کی یہ روایت ترجیح دیتی ہے کہ وہ 'الذہلی' ہیں۔
وأخرجه أحمد 10/ (6404). وأخرجه النسائي (4075) عن العباس بن عبد العظيم العنبري، كلاهما (أحمد والعباس) عن عثمان بن عمر، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (10/6404) اور نسائی (4075) نے عثمان بن عمر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري (1751) و (1752)، وابن ماجه (3032)، وابن حبان (3887) من طريقين عن يونس بن يزيد، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (1751، 1752)، ابن ماجہ (3032) اور ابن حبان نے یونس بن یزید کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا سہو ہے کیونکہ یہ بخاری میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1776 سے ماخوذ ہے۔