حدیث نمبر: 1775
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة عبد الرحمن بن عمرٍو الدِّمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشةَ قالت: أفاضَ رسولُ الله ﷺ من آخرِ يومِه حين صلَّى الظُّهر، ثم رَجَعَ فَمَكَثَ بمنًى لياليَ أيامِ التَّشريق يرمي الجَمْرةَ إذا زالت الشمسُ؛ كلَّ جمرةٍ بسبعِ حَصَياتٍ، يكبِّرُ مع كلِّ حصاةٍ، ويقف عند الأُولى وعند الثانية، فيُطيلُ القيامَ ويتضرَّعُ، ثم يرمي الثالثةَ ولا يقفُ عندها (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (یومِ نحر کے) آخری حصے میں ظہر کی نماز پڑھ کر طوافِ افاضہ کیا، پھر واپس آ کر ایامِ تشریق کی راتیں منیٰ میں قیام فرمایا، آپ ﷺ سورج ڈھلنے کے بعد کنکریاں مارتے تھے؛ ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، آپ پہلے اور دوسرے جمرہ کے پاس کھڑے ہوتے اور طویل قیام فرما کر گڑگڑا کر دعا کرتے، پھر تیسرے جمرہ کو کنکریاں مارتے اور وہاں قیام نہیں فرماتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1775
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق» [ترقيم الرساله 1775] [ترقيم الشركة 1762]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد صرَّح بالتحديث عند ابن حبان

فانتفت شبهة تدليسه. عبد الرحمن بن القاسم: هو ابن محمد بن أبي بكر الصديق.

درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، انہوں نے ابن حبان کے ہاں سماع کی تصریح کر دی ہے جس سے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔
فنی نکتہ: عبدالرحمن بن القاسم سے مراد ابن محمد بن ابی بکر الصدیق ہیں۔
وأخرجه أحمد 41/ (24592)، وأبو داود (1973) من طريق سليمان بن حيان أبي خالد الأحمر، وابن حبان (3868) من طريق يحيى بن سعيد الأموي، كلاهما عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/24592)، ابوداؤد (1973) اور ابن حبان (3868) نے محمد بن اسحاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1775 سے ماخوذ ہے۔