المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ باب: کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے نرم ہو
حدیث نمبر: 174
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا أبو المثنى، حدثنا القعنبي، حدثنا يزيد بن زُريع. وأخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع، عن خالدٍ الحذَّاء، عن أبي قلابة، عن أبي قلابة، عن عائشة قالت: قال: رسول الله ﷺ: "من أكمل المؤمنين إيمانًا أحسَنُهم خُلُقًا، وألطَفُهم بأهله" (2). رواةُ هذا الحديث عن آخرهم ثقاتٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 173 - فيه انقطاعحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل وہ ہے جو ان میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے بہتر ہو اور اپنے اہل و عیال کے لیے سب سے زیادہ نرم دل و مہربان ہو۔“
اس حدیث کے تمام راوی شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات عن آخرهم إلا أنه لا يُعرَف لأبي قلابة- وهو عبد الله بن زيد الجَرْمي - سماع من عائشة كما قال الترمذي، وقال المصنف فيما سلف بإثر حديث رقم (2) في رواية أبي قلابة هذه عن عائشة: أخشى أنَّ أبا قلابة لم يسمعه عن عائشة.
درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابوقلابہ الجرمی کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے جیسا کہ امام ترمذی اور خود مصنف (حاکم) نے خدشہ ظاہر کیا ہے۔
أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، والقعنبي: هو عبد الله بن مسلمة.
نوٹ / توضیح: راوی ابوالمثنیٰ سے مراد "معاذ بن المثنیٰ عنبری" اور القعنبی سے مراد "عبداللہ بن مسلمہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 40 / (24204) و 41 / (24677)، والترمذي (2612)، والنسائي (9109) من طرق عن خالد الحذَّاء بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ترمذی (2612) اور نسائی نے خالد الحذاء کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة المتقدم برقم (1) و (2)، وهو حديث صحيح.
متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ احادیث (نمبر 1 اور 2) اس کی تائید کرتی ہیں جو کہ صحیح ہیں۔
درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابوقلابہ الجرمی کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے جیسا کہ امام ترمذی اور خود مصنف (حاکم) نے خدشہ ظاہر کیا ہے۔
أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، والقعنبي: هو عبد الله بن مسلمة.
نوٹ / توضیح: راوی ابوالمثنیٰ سے مراد "معاذ بن المثنیٰ عنبری" اور القعنبی سے مراد "عبداللہ بن مسلمہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 40 / (24204) و 41 / (24677)، والترمذي (2612)، والنسائي (9109) من طرق عن خالد الحذَّاء بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ترمذی (2612) اور نسائی نے خالد الحذاء کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة المتقدم برقم (1) و (2)، وهو حديث صحيح.
متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ احادیث (نمبر 1 اور 2) اس کی تائید کرتی ہیں جو کہ صحیح ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 174 سے ماخوذ ہے۔