المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
مَنْ أَتَى عَرَفَاتٍ وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِمَامَ باب: جو عرفات آ جائے لیکن امام کو نہ پا سکے۔
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان بن عُيينة، حدثنا سفيان بن سعيدٍ الثَّوري. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن سفيان، عن بُكَير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يَعمَر قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ بعَرَفةَ، وأتاه ناسٌ من أهل نجدٍ وهو بعَرفةَ، فسألوه، فأمَرَ مناديًا فنادى: "الحجُّ عَرَفةُ، الحجُّ عَرَفةُ، ومن جاء ليلةَ جَمْعٍ قبل طلوع الفجر فقد أدرَكَ، أيامُ مِنى ثلاثةٌ، من تعجَّل في يومينِ فلا إثمَ عليه، ومن تأخَّر فلا إثمَ عليه"، وأردَفَ رجلًا فنادى (2).
سیدنا عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عرفہ کے مقام پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اہل نجد میں سے کچھ لوگ بھی آپ ﷺ کے پاس آئے اور سوال کیا، تو آپ ﷺ نے ایک منادی کو حکم دیا جس نے یہ اعلان کیا: ”حج عرفہ (میں وقوف) کا نام ہے، حج عرفہ ہی ہے، اور جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پہنچ گیا اس نے حج پا لیا، منیٰ کے ایام تین ہیں، پس جو ﴿فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ ”دو دنوں میں جلدی کر کے چلا جائے اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں“ [سورة البقرة: 203]، آپ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا جس نے یہی پکار لگائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوبکر بن اسحاق کا نام احمد ہے اور حمیدی سے مراد عبداللہ بن زبیر الاسدی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (890) و (2975)، والنسائي (3998)، وابن حبان (3892) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. قال الترمذي: حديث حسن صحيح. ثم قال: قال ابن أبي عمر - يعني شيخ الترمذي فيه -: قال سفيان بن عيينة: وهذا أجود حديث رواه سفيان الثوري. وقال ابن حبان: قال ابن عيينة: فقلت لسفيان الثوري: ليس عندكم بالكوفة حديث أشرف ولا أحسن من هذا.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا۔ سفیان بن عیینہ کے بقول یہ سفیان ثوری کی روایت کردہ بہترین حدیث ہے۔
وأخرجه الترمذي (889) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، به.
وأخرجه أحمد (18774) و (18954)، وأبو داود (1949)، وابن ماجه (3015) و (3015 م)، والترمذي (889)، والنسائي (3997) و (4036) من طرق عن سفيان الثوري، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے سفیان ثوری کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (3137) من طريق شعبة، عن بكير بن عطاء، ويأتي تخريجه هناك.
تکرار: یہ حدیث آگے نمبر (3137) پر شعبہ عن بکیر بن عطا کے طریق سے آئے گی اور وہیں اس کی تخریج بھی دی جائے گی۔