حدیث نمبر: 1705
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن طاووس، عن ابن عباسٍ رَفَعَه إلى النبي ﷺ قال: "إنَّ الطَّواف بالبيت مِثلُ الصلاة، إلَّا أنكم تتكلَّمونَ، فمن تكلَّم فلا يتكلَّمْ إلا بخير" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وقد أوقفه جماعة.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ بیت اللہ کا طواف نماز کے مانند ہے، سوائے اس کے کہ تم اس میں کلام کرتے ہو، پس جو بات کرے وہ صرف اچھی بات کرے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ایک گروہ نے اسے موقوفاً بھی روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1705
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،على خلاف في رفعه ووقفه. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وبشر بن موسى: هو ابن صالح الأسدي، والحميدي: هو أبو بكر عبد الله بن الزبير الأسدي، وسفيان: هو ابن عيينة.» [ترقيم الرساله 1705] [ترقيم الشركة 1693]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح على خلاف في رفعه ووقفه. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وبشر بن موسى: هو ابن صالح الأسدي، والحميدي: هو أبو بكر عبد الله بن الزبير الأسدي، وسفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، البتہ اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف ہے۔
فنی نکتہ: ابو بکر بن اسحاق کا نام احمد ہے، بشر بن موسیٰ سے مراد ابن صالح الاسدی ہیں، حمیدی سے مراد ابو بکر عبد اللہ بن زبیر الاسدی ہیں اور سفیان سے مراد ابن عیينة ہیں۔
وأخرجه البيهقي 5/ 87 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے (5/87) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1705 سے ماخوذ ہے۔