حدیث نمبر: 1682
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا زكريا بن إسحاق، حدثنا عمرو بن دينار، عن طاووسٍ، قال: قال ابن عباس: احتَجَمَ رسولُ الله ﷺ وهو مُحرِم على رأسِه (1).
هذا حديث مُخرَّج بإسناده في الصحيحين" دون ذكر الرأس، وهو صحيح على شرطهما.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حالتِ احرام میں اپنے سر مبارک پر پچھنے (حجامہ) لگوائے۔
اس حدیث کی اصل سند کے ساتھ بخاری اور مسلم میں موجود ہے مگر اس میں سر کا ذکر نہیں ہے، اور یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1682
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،طاووس: هو ابن كيسان اليماني.» [ترقيم الرساله 1682] [ترقيم الشركة 1670]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. طاووس: هو ابن كيسان اليماني.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ طاؤس یمانی اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 5 / (3524) عن روح بن عبادة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 5 / (3524) نے روح بن عبادہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1922) و (1923)، والبخاري (1835) و (5695)، ومسلم (1202)، وأبو داود (1835)، والترمذي (839)، والنسائي (3815) و (3816)، وابن حبان (3951) من طريق سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، به. دون ذكر الرأس. وقرن عمرو بن دينار بطاووس عطاءَ بن أبي رباح، وعند بعضهم رواه مرة عن طاووس وحده ومرة عن عطاء وحده.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، بخاری (1835)، مسلم (1202)، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے سفیان بن عیینہ عن عمرو بن دینار کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر ان روایات میں "سر" کا ذکر موجود نہیں۔
وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه بذكر الرأس أحمد 4/ (2108)، والبخاري (5700)، ومعلقًا برقم (5701)، وأبو داود (1836)، والنسائي (7555)، وابن حبان (3950) من طريق عكرمة، عن ابن عباس قال: احتجم النبي ﷺ في رأسه وهو محرم من وجع كان به. وفي رواية: من شقيقة كانت به.
اہم نکتہ: سر میں حجامہ (سنگھی) لگوانے کا ذکر احمد 4/ (2108)، بخاری (5700) اور ابوداؤد وغیرہ میں عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے سر کے درد یا آدھے سر کے درد (شقیقہ) کی وجہ سے حالتِ احرام میں حجامہ کروایا۔
وللحديث طرق أخرى عن ابن عباس ليس فيها ذكر الرأس، وقد وقع في بعضها: وهو محرم، وهو صائم، وفي بعضها: وهو محرم صائم، أخرجها أحمد في "المسند" 3/ (1849) و 4/ (2560) و (2666) و 5/ (2888)، واستوعبنا هناك في المسند تمام تخريجه وبيان خطأ رواية محرم، صائم، فلينظر.
سندی اختلاف: ابن عباس ؓ سے مروی بعض روایات میں "محرم" اور "روزہ دار" کے الفاظ میں اختلاف ہوا ہے، جس کی تفصیل ہم نے مسند احمد میں بیان کر کے "محرم روزہ دار" والی روایت کی غلطی واضح کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1682 سے ماخوذ ہے۔