حدیث نمبر: 168
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة (3) الغفاري، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سعيد بن مسروق، عن سعد بن عُبيدة، عن ابن عمر قال: قال عمر: لا وأبي، فقال رسول الله ﷺ: "لا تحلفوا بآبائكم، مَن حَلَفَ بِشيءٍ دونَ الله فقد أشرك" (4).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (بات کے دوران) کہا: ”نہیں، میرے باپ کی قسم!“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ، جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 168
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات إلّا أنَّ فيه علَّة الانقطاع بين سعد بن عبيدة وابن عمر كما سيأتي بيانه في الحديث التالي» [ترقيم الرساله 168] [ترقيم الشركة 167]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف هذا الاسم في المطبوع إلى: أحمد بن حازم عن أبي عروة.
فنی نکتہ / علّت: مطبوعہ نسخے میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "احمد بن حازم عن ابی عروہ" چھپ گیا ہے (جو کہ غلط ہے)۔
(4) رجاله ثقات إلّا أنَّ فيه علَّة الانقطاع بين سعد بن عبيدة وابن عمر كما سيأتي بيانه في الحديث التالي. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي.
درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، مگر اس میں "انقطاع" (سند کا ٹوٹا ہونا) کی علت ہے، کیونکہ سعد بن عبیدہ کا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں۔
نوٹ / توضیح: راوی اسرائیل سے مراد "اسرائیل بن یونس بن ابی اسحاق سبیعی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (329) عن أبي سعيد مولى بني هشام، عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند (1/329) میں ابوسعید (مولیٰ بنی ہاشم) کے واسطے سے اسرائیل کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 168 سے ماخوذ ہے۔