حدیث نمبر: 151
فحدَّثناه علي بن حَمْشَاذَ وعبد الله بن محمد الصَّيدلاني قالا: حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا مُسلم بن إبراهيم، حدثنا، هشام، حدثنا قتادة، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال: "لا تَلاعَنُوا بِلَعْنةِ الله، ولا بغضب الله، ولا بالنَّارِ" (1). هذه الأحاديث التي خرَّجتُها في هذا الباب بألفاظها المختلفة كلُّها صحيحة الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 150 - أسانيده صحيحة
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایک دوسرے پر اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور آگ (دوزخ) کے ساتھ لعنت نہ بھیجا کرو۔“
اس باب میں میں نے مختلف الفاظ کے ساتھ جو بھی احادیث ذکر کی ہیں ان سب کی سندیں صحیح ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 151
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وسماع الحسن - وهو البصري - من سمرة صحيح، هكذا قال علي بن المديني وغيره فيما نقله الترمذي في "جامعه" (1237)، ومن جملة من صحَّح سماعَه البخاريُّ والمصنف فيما يأتي برقم (792)، وقال الحافظ الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 3/ 184: ثبت سماعُ الحسن من سمرة ولقيَه بلا ...» [ترقيم الرساله 151] [ترقيم الشركة 150] [ترقيم العلميه 150]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، وسماع الحسن - وهو البصري - من سمرة صحيح، هكذا قال علي بن المديني وغيره فيما نقله الترمذي في "جامعه" (1237)، ومن جملة من صحَّح سماعَه البخاريُّ والمصنف فيما يأتي برقم (792)، وقال الحافظ الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 3/ 184: ثبت سماعُ الحسن من سمرة ولقيَه بلا ريبٍ، وقال في "تاريخ الإسلام" 2/ 502: سماعه منه ثابت، فالصحيح لزومُ الاحتجاج بروايته عنه، ولا عبرة بقول من قال من الأئمة: لم يسمع الحسن من سمرة، لأن عندهم علمًا زائدًا على ما عندهم من نفي سماعه منه. انتهى، وذهب جماعة إلى أنَّ رواية الحسن عن سمرة كتاب، قال العلائي في "جامع التحصيل": وذلك لا يقتضي الانقطاع. وانظر بيان اختلاف أهل العلم في هذه المسألة عند الزيلعي في "نصب الراية" 1/ 88 - 90.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حسن بصری کا سمرہ بن جندب سے سماع صحیح ہے، جیسا کہ علی بن المدینی، امام بخاری اور حافظ ذہبی نے صراحت کی ہے۔
اہم نکتہ: امام ذہبی کے نزدیک حسن بصری کا سمرہ سے سماع ثابت ہے اور ان کی روایت سے احتجاج کرنا لازم ہے، ان ائمہ کی بات کا اعتبار نہیں جو سماع کی نفی کرتے ہیں کیونکہ ثابت کرنے والوں کے پاس زیادہ علم ہے۔
وأخرجه أبو داود (4906) عن مسلم بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے اپنی سنن (4906) میں مسلم بن ابراہیم کی سند سے اسی طریق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (1976) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن هشام الدَّستوائي، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (1976) میں عبدالرحمن بن مہدی کے واسطے سے ہشام دستوائی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20175) من طريق همّام بن يحيى، عن قتادة به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (33/20175) میں ہمام بن یحییٰ کے واسطے سے قتادہ کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "ولا بالنار" أي: أن يقول: أدخلك الله النار، أو النار مثواك، ونحوه.
نوٹ / توضیح: قول "ولا بالنار" کا مطلب یہ ہے کہ کسی پر آگ کے ذریعے بددعا نہ کرو، مثلاً یہ کہنا کہ "اللہ تجھے آگ میں ڈالے" یا "دوزخ تیرا ٹھکانہ ہو" وغیرہ۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 151 سے ماخوذ ہے۔