المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
إِنَّ اللَّهَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ ، وَمَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ ، وَيُبْغِضُ سَفْسَافَهَا باب: اللہ سخی ہے، سخاوت اور اعلیٰ اخلاق کو پسند کرتا ہے اور گھٹیا اخلاق کو ناپسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 152
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحسن بن سفيان الشَّيباني، حدثنا محمد سَلَمة المُرادي، حدثنا حجَّاج بن سليمان بن القُمْريِّ -ومات قبل ابن وهب - حدثنا أبو غسان المدني، عن أبي حازم، عن سهل بن سعدٍ الساعدي، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "إنَّ الله كريمٌ يحبُّ الكرم، ويحبُّ معالي الأخلاق ويكره سَفْسافَها" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 151 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کریم ہے اور کرم کو پسند فرماتا ہے، وہ اعلیٰ اخلاق کو پسند کرتا ہے اور گھٹیا و رذیل اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث حسن، وفي إسناده لينٌ من جهة حجاج بن سليمان -وهو الرُّعيني المصري- وإن تساهل المصنف فيما يأتي فقال: ثقة مأمون! وذكره ابن حبان في "الثقات" أيضًا، وقال ابن عدي: يحدث عن الليث وابن لهيعة أحاديث منكرة وإذا روى حجاج هذا عن غير ابن لهيعة فهو مستقيم إن شاء الله تعالى، أما أبو زُرعة الرازي فقال: منكر الحديث، وقال ابن يونس المصري في "تاريخه": في حديثه خطأ ومناكير. قلنا: لكن الحديث بطرقه وشاهده المذكور لاحقًا من حديث جابر حسنٌ إن شاء الله، وقد اختُلف فيه على أبي حازم - وهو سلمة بن دينار - كما سيأتي في الحديث التالي. أبو غسان المدني: هو محمد بن بن مطرِّف.
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں حجاج بن سلیمان الرعینی کی وجہ سے کچھ کمزوری ہے، ابوزرعہ رازی نے انہیں "منکر الحدیث" کہا ہے، تاہم حضرت جابر کی تائیدی روایت کی وجہ سے یہ حسن کے درجے پر ہے۔
نوٹ / توضیح: حجاج اگر ابن لہیعہ کے علاوہ کسی سے روایت کرے تو اس کی حدیث مستقیم ہوتی ہے۔ سند میں مذکور ابوغسان مدنی سے مراد "محمد بن مطرف" ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں حجاج بن سلیمان الرعینی کی وجہ سے کچھ کمزوری ہے، ابوزرعہ رازی نے انہیں "منکر الحدیث" کہا ہے، تاہم حضرت جابر کی تائیدی روایت کی وجہ سے یہ حسن کے درجے پر ہے۔
نوٹ / توضیح: حجاج اگر ابن لہیعہ کے علاوہ کسی سے روایت کرے تو اس کی حدیث مستقیم ہوتی ہے۔ سند میں مذکور ابوغسان مدنی سے مراد "محمد بن مطرف" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 152 سے ماخوذ ہے۔