حدیث نمبر: 1423
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أسامة بن زيد، حدثني الزُّهري، عن أنس بن مالك قال: لما رَجَعَ رسولُ الله ﷺ من أُحُد، سَمِعَ نساءَ الأنصار يَبكِين، فقال: "لكنَّ حمزةَ لا بَوَاكيَ له"، فبَلَغ ذلك نساءَ الأنصار، فبَكَين لحمزة، فنام رسولُ الله ﷺ ثم استيقظ وهُنَّ يَبكِين، فقال: "يا وَيحَهُنَّ، ما زِلْنَ يَبكِينَ منذُ اليومِ، فَلْيَبكِينَ (1)، ولا يَبكِين على هالكٍ بعد اليوم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وهو أشهرُ حديث بالمدينة، فإنَّ نساء المدينة لا يَندُبنَ موتاهُنَّ حتى يَندُبنَ حمزةَ، وإلى يومنا هذا. وقد اتفق الشيخان على إخراج حديث أيوب السَّخْتِياني عن عبد الله بن أبي مُلَيكة؛ مناظرةِ عبد الله بن عمر وعبد الله بن عباس في البكاء على الميِّت، ورُجوعِهما فيه إلى أم المؤمنين عائشة، وقولِها: والله ما قال رسولُ الله ﷺ: إِنَّ الميتَ يُعذَّب ببُكاء أحدٍ، ولكنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الكافر يَزيدُه عند الله بكاءُ أهله عليه عذابًا"، وإنَّ الله هو أَضحَكَ وأبكى، ولا تَزِرُ وازِرةٌ وِزْرَ أخرى (3).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ احد سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے انصاری عورتوں کے رونے کی آواز سنی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے لیے تو کوئی رونے والا نہیں ہے“، جب یہ بات انصاری عورتوں تک پہنچی تو وہ سیدنا حمزہ کے لیے رونے لگیں، پھر رسول اللہ ﷺ سو گئے، جب بیدار ہوئے تو وہ اب بھی رو رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا برا ہو! یہ تو آج سارا دن ہی روتی رہی ہیں، انہیں چاہیے کہ (اب) رو لیں، لیکن آج کے بعد کسی مرنے والے پر (اس طرح) نہ روئیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ مدینہ میں سب سے زیادہ مشہور حدیث ہے کیونکہ مدینہ کی عورتیں آج تک اپنے مرنے والوں پر بین کرنے سے پہلے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے بین کرتی ہیں۔ اور شیخین نے ایوب سختیانی سے عبداللہ بن ابی ملیکہ کے واسطے سے یہ روایت نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس کے درمیان میت پر رونے کے معاملے میں مناظرہ ہوا، پھر وہ دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف رجوع لائے تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ”مومن کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا: ”بے شک کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیا جاتا ہے“، اور بے شک اللہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے، اور ﴿لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ [سورہ الانعام: 164]

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1423
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 1423] [ترقيم الشركة 1411]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا في (ز) و (ص) و (ع): يبكين، وكذا هو في بعض مصادر التخريج، وفي (ب) و"السنن الكبرى" للبيهقي: فليسكتن.
فنی نکتہ: (1) "يبكين" (وہ روئیں) اور "فليسكتن" (پس وہ خاموش رہیں) کے الفاظ میں نسخوں کے مابین اختلاف ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي.
درجۂ حدیث: (2) اسامہ بن زید اللیثی کی وجہ سے سند حسن ہے۔
ورواه أسامة بن زيد مرةً عن نافع عن ابن عمر، وسيأتي برقم (4944) و (4952).
تکرار: اسامہ بن زید نے اسے نافع عن ابن عمر سے بھی روایت کیا ہے (نمبر 4944 اور 4952)۔
أما حديث الزهري عن أنس، فقد أخرجه البيهقي 4/ 70 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: زہری عن انس والی روایت کو بیہقی (70/4) نے حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار (6346)، وأبو يعلى (3576) و (3610)، والضياء في "المختارة" 7/ (2611) من طريق روح بن عبادة، عن أسامة بن زيد الليثي، به.
حوالہ / مصدر: اسے بزار، ابویعلیٰ (3576) اور ضیاء مقدسی نے روح بن عبادہ عن اسامہ اللیثی کی سند سے روایت کیا ہے۔
(3) حديث أيوب عن ابن أبي مليكة انفرد بإخراجه مسلم (928)، أما البخاري فقد أخرجه برقم (1286 - 1288) من حديث ابن جريج عن ابن أبي مليكة.
فنی نکتہ: (3) ابن ابی ملیکہ کی روایت میں ایوب کا تفرد مسلم (928) میں ہے، جبکہ بخاری نے اسے ابن جریج کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1423 سے ماخوذ ہے۔