حدیث نمبر: 140
فأخبرناه أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدّارمي، حدثنا سعيد ابن أبي مريم، حدثنا ابن الدَّرَاوَرْديِّ، حدثني محمد بن عمرو بن علقمة، عن أبيه، عن جدِّه، عن بلال بن الحارث، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "إِنَّ أحدكم ليتكلَّمُ بالكلمة من رِضْوانِ الله، وما يظنُّ أن تَبلُغَ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله له بها رضوانه إلى يوم يلقاهُ، وإن أحدكم ليتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله، وما يظنُّ أَن تَبْلُغَ مَا بَلَغَت، يكتبُ الله بها سَخَطَه إلى يوم يلقاهُ" (1). وأما حديث محمد بن بشر:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک تم میں سے کوئی اللہ کی رضا مندی کی کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنے ملنے کے دن تک اپنی خوشنودی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی اللہ کی ناراضگی کی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور تک پہنچ جائے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنے ملنے کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 140
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد كسابقه» [ترقيم الرساله 140] [ترقيم الشركة 139]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن في المتابعات والشواهد كسابقه.
درجۂ حدیث: گزشتہ روایات کی طرح یہ سند بھی متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 140 سے ماخوذ ہے۔