حدیث نمبر: 141
فحدَّثَني عليُّ بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَنٍ، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن بشْر، حدثنا محمد بن عمرو، حدثني أبي، عن أبيه علقمة بن وَقَّاص قال: مرَّ به رجلٌ له شَرَفٌ وهو بسوق المدينة فسلَّمَ عليه، فقال له علقمةُ: يا فلانُ، إنَّ لك رَحِمًا ولك حقًّا، وإني رأيتُك تدخلُ على هؤلاء الأمراء فتتكلَّم عندهم بما شاء الله أن تَكلَّمَ، وإني سمعتُ بلال بن الحارث المُزَني صاحبَ رسول الله ﷺ يقول: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أحدكم ليتكلَّم بالكلمة من رِضْوانِ الله، ما يظنُّ أن تبلُغ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله له بها رضوانه إلى يوم يلقاهُ، وإنَّ أحدكم ليتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله، ما يظنُّ أن تَبلُغَ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله عليه بها سَخَطَه إلى يوم يلقاه". قال علقمة: وَيحَكَ، فانظُر ماذا تقول، وماذا تكلَّمُ به، فرُبَّ كلامٍ مَنَعَني ما سمعتُه من بلال بن الحارث (2). قصَّر مالك بن أنس برواية هذا الحديث عن محمد بن عمرو، ولم يَذكُر علقمة ابن وقَّاص.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس سے ایک معزز آدمی گزرا جب وہ مدینہ کے بازار میں تھے، اس نے انہیں سلام کیا تو علقمہ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارا (ہمارے ساتھ) قرابتی رشتہ بھی ہے اور ایک حق بھی ہے، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ان امراء کے پاس جاتے ہو اور ان کے سامنے وہ گفتگو کرتے ہو جو اللہ چاہتا ہے کہ تم کرو، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تم میں سے کوئی اللہ کی رضا مندی والی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور تک پہنچ جائے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اپنے ملنے کے دن تک اس کے لیے اپنی خوشنودی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی اللہ کی ناراضگی والی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اس پر اپنے ملنے کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“ علقمہ نے (نصیحت کرتے ہوئے) کہا: تم پر افسوس ہے! دیکھ کر بات کیا کرو کہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ بسا اوقات وہ بات جو میں نے بلال بن حارث سے سنی ہے وہ مجھے (بہت کچھ) بولنے سے روک دیتی ہے۔
امام مالک بن انس نے اس حدیث کی روایت محمد بن عمرو سے کرنے میں اختصار کیا ہے اور علقمہ بن وقاص کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 141
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد كما سبق عند الحديث (137)» [ترقيم الرساله 141] [ترقيم الشركة 140]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد كما سبق عند الحديث (137).
درجۂ حدیث: یہ سند بھی متابعات و شواہد میں "حسن" ہے جیسا کہ حدیث نمبر (137) کے تحت وضاحت گزری۔
وأخرجه ابن ماجه (3969) عن أبي بكر بن أبي شيبة -أخي عثمان- عن محمد بن بشر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (3969) نے ابوبکر بن ابی شیبہ (عبداللہ بن محمد، جو عثمان کے بھائی ہیں) کے واسطے سے محمد بن بشر کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 141 سے ماخوذ ہے۔