حدیث نمبر: 139
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بالويه، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب الزاهد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، أخبرنا محمد بن عمرو ابن علقمة، عن أبيه، عن جدِّه، عن بلال بن الحارث المُزَني، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "إنَّ أحدكم ليتكلَّمُ بالكلمة من رِضوان الله وما يظنُّ أَن تَبْلُغَ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله له بها رِضوانَه إلى يوم يلقاهُ، وإنَّ أحدكم ليتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله وما يظنُّ أن تَبلُغَ ما بَلَغَت، يكتبُ الله عليه بها سَخَطَه إلى يوم يلقاهُ" (3). وأما حديث عبد العزيز بن محمد، فقد أخرجه مسلم (4):
حافظ طلحہ بابر

سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی اللہ کی رضا مندی کی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور تک پہنچ جائے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اپنے ملنے کے دن تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی اللہ کی ناراضگی کی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اس سے ملنے کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 139
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد كسابقه» [ترقيم الرساله 139] [ترقيم الشركة 138]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن في المتابعات والشواهد كسابقه.
درجۂ حدیث: گزشتہ روایات کی طرح یہ سند بھی متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔
(4) كذا قال المصنف، وهو ذهولٌ منه ﵀، فإنَّ مسلمًا لم يخرجه، وهو لم يخرج أصلًا لبلال بن الحارث في "صحيحه" شيئًا.
فنی نکتہ / علّت: مصنف (امام حاکم) نے اسے امام مسلم کی طرف منسوب کیا ہے جو ان کا سہو (ذہول) ہے، کیونکہ امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اپنی "صحیح" میں بلال بن حارث سے کوئی روایت لی ہی نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 139 سے ماخوذ ہے۔