المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ باب: جو شخص کسی معاہد (غیر مسلم محفوظ شہری) کو ناحق قتل کرے، اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 138
فحدَّثَناه أبو سعيدٍ أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا عبد الله بن الحسن ابن أحمد بن أبي شعيب الحرَّاني، حدثنا جدِّي، حدثنا موسى بن أعيَنَ، حدثنا سفيان، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن أبيه، عن جدِّه، عن بلال بن الحارث المُزَني قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الرجلَ لَيَتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله لا يدري أن تَبْلُغَ ما بَلَغَت، فيكتُب الله له سَخَطَه إلى يوم القيامة، وإنَّ الرجل ليتكلَّمُ بالكلمة من رِضْوان الله لا يدري أن تَبلُغَ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله له رِضاهُ إلى يومِ القيامة (1) " (2). وأما حديث إسماعيل بن جعفر:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک آدمی اللہ کی ناراضگی والی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جسے اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے قیامت کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے، اور بے شک آدمی اللہ کی رضا مندی والی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے قیامت کے دن تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في المطبوع: إلى يوم يلقاه.
نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں "اس دن تک جب وہ اس سے ملے گا" کے الفاظ ہیں۔
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد كسابقه.
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ سند بھی متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں "اس دن تک جب وہ اس سے ملے گا" کے الفاظ ہیں۔
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد كسابقه.
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ سند بھی متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 138 سے ماخوذ ہے۔