حدیث نمبر: 137
حدثنا أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمَرو وأبو عبد الله محمد ابن علي بن مَخلَد الجوهري ببغداد قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سعيد بن عامر الضُّبَعي، حدثنا محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن أبيه، عن جدِّه علقمة بن وَقَّاص قال: كان رجلٌ بَطّالٌ يدخل على الأمراء فيُضحكهم، فقال له جدِّي: وَيْحَكَ يا فلان، لِمَ تدخلُ على هؤلاء وتُضحِكُهم؟ فإني سمعتُ بلال بن الحارث المُزَني صاحبَ رسول الله ﷺ يحدِّث أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ العبدَ لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من رِضْوانِ الله، ما يَظُنُّ أن تَبْلُغَ مَا بَلَغَت، فيرضى اللهُ بها عنه إلى يوم يلقاهُ (1)، وإنَّ العبدَ لَيَتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله، ما يَظُنُّ أن تبلُغَ ما بَلَغَت، فيَسخَطُ الله بها إلى يوم يلقاهُ" (2).
هذا حديث صحيح، وقد احتجَّ مسلمٌ بمحمد بن عمرو، وقد أقام إسناده عنه سعيدُ بن عامر كما أوردتُه عاليًا، هكذا رواه سفيانُ الثَّوري وإسماعيل بن جعفر وعبد العزيز الدَّراوَرْدي ومحمد بن بِشر العبدي وغيرهم. أمَّا حديث الثَّوري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 136 - هذا صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علقمہ بن وقاص سے روایت ہے کہ ایک مسخرا آدمی تھا جو امراء کے پاس جایا کرتا تھا اور انہیں اپنی باتوں سے ہنساتا تھا، تو میرے دادا (علقمہ) نے اس سے کہا: افسوس ہے تم پر اے فلاں! تم ان لوگوں کے پاس کیوں جاتے ہو اور انہیں ہنساتے ہو؟ جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک بندہ اللہ کی رضا مندی والی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس درجے کو پہنچ جائے گی جہاں وہ پہنچ گئی، تو اللہ اس بات کی وجہ سے اس سے اپنی ملاقات کے دن تک راضی ہو جاتا ہے، اور بے شک بندہ اللہ کی ناراضگی والی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اسے خیال بھی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور تک پہنچ جائے گی، تو اللہ اس بات کی وجہ سے اس سے اپنی ملاقات کے دن تک کے لیے ناراض ہو جاتا ہے۔“
یہ صحیح حدیث ہے، امام مسلم نے محمد بن عمرو سے احتجاج کیا ہے، اور سعید بن عامر نے ان سے اس کی سند کو اسی طرح قائم کیا ہے جیسے میں نے اوپر ذکر کیا، اسی طرح اسے سفیان ثوری، اسماعیل بن جعفر، عبدالعزیز دراوردی اور محمد بن بشر عبدی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ رہی امام ثوری کی حدیث:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 137
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد من أجل عمرو بن علقمة والد محمد، فإنه لم يرو عنه غير ابنه محمد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وابنه محمد صدوق حسن الحديث» [ترقيم الرساله 137] [ترقيم الشركة 136] [ترقيم العلميه 136]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ب) والمطبوع: إلى يوم القيامة.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) اور مطبوعہ کتاب میں "قیامت کے دن تک" کے الفاظ درج ہیں۔
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عمرو بن علقمة والد محمد، فإنه لم يرو عنه غير ابنه محمد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وابنه محمد صدوق حسن الحديث.
درجۂ حدیث: متابعات و شواہد میں یہ سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود عمرو بن علقمہ (محمد کے والد) سے صرف ان کے بیٹے محمد بن عمرو نے روایت کی ہے اور ابن حبان کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں، البتہ ان کے بیٹے محمد صدوق اور حسن الحدیث ہیں۔
وأخرجه أحمد 25/ (15852)، وابن ماجه (3969)، والترمذي (2319)، والنسائي في الرقائق من "سننه الكبرى" كما في "تحفة الأشراف" (2028)، وابن حبان (280) و (281) و (287) من طرق عن محمد بن عمرو بن علقمة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. وله شاهد بنحوه من حديث أبي هريرة عند أحمد 14/ (8411)، والبخاري (6478)
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15852)، ابن ماجہ (3969)، ترمذی (2319)، نسائی (تحفہ الاشراف: 2028) اور ابن حبان نے محمد بن عمرو بن علقمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کا شاہد صحیح بخاری (6478) اور مسند احمد میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 137 سے ماخوذ ہے۔