المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
حَالَةُ قَبْضِ رُوحِ الْمُؤْمِنِ وَرُوحِ الْكَافِرِ وَمَا يُقَالُ لَهُ وَيُفْعَلُ بِهِ باب: مؤمن کی روح اور کافر کی روح قبض کیے جانے کی کیفیت، اور ان سے کیا کہا جاتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1320
حدَّثَنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا همَّام، عن قَتادة عن أبي الجَوْزاء، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "إنّ المؤمنَ إذا حَضَرَه الموتُ، حَضَره ملائكةُ الرحمة"، ثم ذكر الحديث بنحوه (2). هذه الأسانيد كلها صحيحة، وشاهدها حديث البراء بن عازب، وقد أمليتُه في كتاب الإيمان (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جب مومن کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں“، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مکمل تذکرہ کیا۔
یہ تمام اسانید صحیح ہیں اور ان کی شاہد حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جسے میں نے ”کتاب الایمان“ میں املاء کروا دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح بما قبله، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان، وقد توبع.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند حسن ہے۔ عبدالرحمن بن سلمان الحجری متابعات میں معتبر ہیں اور حافظ ابن حجر نے انہیں "لا بأس به" کہا ہے۔ "حجری" ایک معروف قبیلہ حجرِ رعین کی نسبت ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3013) من طريق هدبة بن خالد، عن همام بن يحيى، بهذا الإسناد.
فنی نکتہ: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس، احمد بن عیسیٰ سے مراد ابوحسان المصری اور مقبری سے مراد سعید بن ابی سعید ہیں۔
(3) سلف برقم (107)، وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (9397) میں احمد بن عبدالرحمن (ابن وہب کے بھتیجے) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند حسن ہے۔ عبدالرحمن بن سلمان الحجری متابعات میں معتبر ہیں اور حافظ ابن حجر نے انہیں "لا بأس به" کہا ہے۔ "حجری" ایک معروف قبیلہ حجرِ رعین کی نسبت ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3013) من طريق هدبة بن خالد، عن همام بن يحيى، بهذا الإسناد.
فنی نکتہ: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس، احمد بن عیسیٰ سے مراد ابوحسان المصری اور مقبری سے مراد سعید بن ابی سعید ہیں۔
(3) سلف برقم (107)، وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (9397) میں احمد بن عبدالرحمن (ابن وہب کے بھتیجے) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1320 سے ماخوذ ہے۔