المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
حَالَةُ قَبْضِ رُوحِ الْمُؤْمِنِ وَرُوحِ الْكَافِرِ وَمَا يُقَالُ لَهُ وَيُفْعَلُ بِهِ باب: مؤمن کی روح اور کافر کی روح قبض کیے جانے کی کیفیت، اور ان سے کیا کہا جاتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1319
أخبرَنيهِ أبو بكر بن عبد الله، أخبرنا الحسنُ بن سفيان، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن قَسَامة بن زهير، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، نحوه (1). وقال همَّام بنُ يحيى: عن قتادة، عن أبي الجَوْزاء، عن أبي هريرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسی طرح (مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی) ارشاد فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (2) طلحہ بن یحییٰ التیمی کی وجہ سے سند حسن ہے اور ان کی متابعت موجود ہے، لہٰذا یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔
وأخرجه النسائي (1972)، وابن حبان (3014) من طريقين عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16899/28) نے یعلیٰ بن عبید کی سند سے روایت کیا ہے اور اس کے شواہد حضرت عائشہ اور ابوسعید خدری کی روایات میں موجود ہیں۔
درجۂ حدیث: (2) طلحہ بن یحییٰ التیمی کی وجہ سے سند حسن ہے اور ان کی متابعت موجود ہے، لہٰذا یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔
وأخرجه النسائي (1972)، وابن حبان (3014) من طريقين عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (16899/28) نے یعلیٰ بن عبید کی سند سے روایت کیا ہے اور اس کے شواہد حضرت عائشہ اور ابوسعید خدری کی روایات میں موجود ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1319 سے ماخوذ ہے۔