حدیث نمبر: 1266
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا محمد بن مَعمَر بن رِبْعي القيسي، حدثنا عمرو بن خليفة البكراوي، حدثنا أشعث بن عبد الملك الحُمراني، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أنَّ النبي ﷺ صلى بالقوم في الخوف صلاة المغرب ثلاثَ رَكَعَاتٍ ثم انصرف، وجاء الآخرون فصلَّى بهم ثلاثَ ركعات (2). سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول:
هذا حديث غريب أشعث الحُمْراني لم يكتبه إلّا بهذا الإسناد. قال الحاكم وإنه صحيح على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر

اشعث بن عبدالملک حمرانی، حسن سے اور وہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: ”نبی کریم ﷺ نے خوف کی حالت میں لوگوں کو مغرب کی نماز تین رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ ﷺ پھر گئے، اور دوسرے لوگ آئے تو آپ ﷺ نے انہیں (بھی) تین رکعتیں پڑھائیں۔“ میں نے ابوعلی حافظ کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ حدیث غریب ہے، اشعث حمرانی نے اسے صرف اسی سند کے ساتھ لکھا ہے۔“ امام حاکم نے فرمایا: ”اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 1266
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «رجاله ثقات غير عمرو بن خليفة البكراوي، فقد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: في روايته بعض المناكير. قلنا: وقد خالف في هذه الرواية من هو أوثق منه وأكثر عددًا كما سيأتي. عبدان الأهوازي اسمه عبد الله بن أحمد بن موسى.» [ترقيم الرساله 1266] [ترقيم الشركة 1255]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات غير عمرو بن خليفة البكراوي، فقد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في

"الثقات" وقال: في روايته بعض المناكير. قلنا: وقد خالف في هذه الرواية من هو أوثق منه وأكثر عددًا كما سيأتي. عبدان الأهوازي اسمه عبد الله بن أحمد بن موسى.

درجۂ حدیث: (2) عمرو بن خلیفہ کے علاوہ تمام راوی ثقہ ہیں، عمرو بن خلیفہ کی روایات میں کچھ "منکر" باتیں ہوتی ہیں اور انہوں نے یہاں ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے۔
وأخرجه البيهقي 3/ 260: عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (260/3) نے ابوعبداللہ الحاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (1368)، ومن طريقه الدارقطني (1783) عن محمد بن معمر بن ربعى، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (1368) اور ان کے واسطے سے دارقطنی (1783) نے محمد بن معمر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد وردت هذه الهيئة لصلاة الخوف في المغرب من كلام أبي داود، فقد قال بإثر الحديث (1248) من "سننه": وبذلك كان يفتي الحسن. ثم قال: وكذلك في المغرب، يكون للإمام ست ركعات وللقوم ثلاثٌ ثلاث. وإلى ذلك أشار البيهقي موهمًا رواية صلاة المغرب، فقال 3/ 260: "وكذلك في المغرب" وجدته في كتابي موصولًا بالحديث، وكأنه من قول الأشعث، وهو في بعض النسخ: قال أبو داود وقد رواه بعض الناس عن أشعث في المغرب مرفوعًا، ولا أظنه إلّا واهمًا في ذلك، انتهى.
(توضیح): ابوداؤد کے مطابق مغرب کی نمازِ خوف میں امام کے لیے چھ رکعتیں اور مقتدیوں کے لیے تین تین رکعتیں ہوں گی (یعنی باری باری)۔ بیہقی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے مگر بعض نسخوں میں اسے اشعث کا قول قرار دیا گیا ہے اور مرفوع (نبی ﷺ کا فرمان) ہونا وہم مانا گیا ہے۔
وقد روى الأشهر والأكثر والأوثق عن الأشعث هذا الحديث وفيه: أنَّ النبي ﷺ صلى بهؤلاء الركعتين وبهؤلاء الركعتين، فكانت للنبي ﷺ أربعًا، ولهم ركعتين ركعتين. أخرج ذلك أحمد 34/ (20408)، والنسائي (912) و (1956) من طريق يحيى القطان، وأحمد (20497) عن روح بن القاسم، وأبو داود (1248) من طريق معاذ بن معاذ، والنسائي (521) و (1952) من طريق خالد بن الحارث، وابن حبان (2881) من طريق سعيد بن عامر، خمستهم عن أشعث الحمراني، به. ووقع عند أكثرهم: أنه سلَّم بعد الركعتين الأوليين. وعُيِّنت الصلاة في رواية معاذ بن معاذ أنها الظهر.
درجۂ حدیث: اشعث سے مروی زیادہ مشہور اور ثقہ روایت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ہر گروہ کو دو دو رکعتیں پڑھائیں، اس طرح آپ ﷺ کی چار اور مقتدیوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔ اسے احمد، نسائی، ابوداؤد اور ابن حبان نے یحییٰ القطان وغیرہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ اکثر کے نزدیک آپ ﷺ نے پہلی دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرا تھا اور یہ نماز ظہر تھی۔
ويقوي رواية الركعتين متابعةُ أبي حمزة الرقاشي لأشعث عليها عند أبي داود الطيالسي (918)، ومن طريقه أخرجها البزار (3659)، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 1/ 315.
متابعات و شواہد: دو رکعت والی روایت کی تائید ابوحمزہ الرقاشی کی متابعت سے بھی ہوتی ہے جو طیالسی، بزار اور طحاوی کے ہاں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1266 سے ماخوذ ہے۔