المستدرك على الصحيحين
كتاب صلاة الخوف— نماز خوف کا بیان
صَلَاةُ الْخَوْفِ رَكْعَةً رَكْعَةً باب: نمازِ خوف ایک ایک رکعت کر کے ادا کرنا۔
حدثنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم الدُّوري، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُروة، عن عائشة قالت: صلَّى رسول الله ﷺ صلاة الخوف، قالت: فصَدَعَ رَسولُ الله ﷺ الناسَ صَدْعَتَين، فصفَّت طائفة وراءَه، وقامت طائفة وِجاهَ العدوّ، قالت: فكبَّر رسولُ الله ﷺ وكبَّرت الطائفةُ الذين صفُّوا خلفَه، ثم رَكَع وركعوا، ثم سَجَد وسجدوا، ثم رفع رأسه فرفعوا، ثم مَكَثَ رسول الله ﷺ جالسًا وسجدوا لأنفسهم السجدةَ الثانية، ثم قاموا، ثم نَكَصُوا على أعقابهم يمشون القَهْقَرى حتى قاموا من ورائهم، وأقبلت الطائفةُ الأخرى فصفُّوا خلفَ رسول الله ﷺ، فكبَّروا ثم ركعوا لأنفسهم، ثم سَجَدَ رسول الله ﷺ سجدتَه الثانيةَ فسجدوا معه، ثم قامَ رسول الله ﷺ في ركعتِه وسجدوا لأنفسهم السجدةَ الثانية، ثم قامتِ الطائفتانِ جميعًا فصفُّوا خلفَ رسول الله ﷺ، فركع بهم ركعةً فركعوا جميعًا، ثم سجد فسجدوا جميعًا، ثم رفع رأسه ورفعوا معه، كلُّ ذلك من رسول الله ﷺ سريعًا جدًّا لا يَألُو أن يخفِّف ما استطاع، ثم سلَّم رسول الله ﷺ فسلَّموا، ثم قام رسول الله ﷺ وقد شَرَكَه الناسُ في صلاته كلِّها (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو أتمُّ حديثٍ وأشفاهُ في صلاة الخوف.
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے نماز خوف پڑھائی، آپ ﷺ نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک گروہ نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنائی اور ایک گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہوا، پھر رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی تو آپ ﷺ کے پیچھے صف بنانے والے گروہ نے تکبیر کہی، پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور انہوں نے رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا تو انہوں نے سر اٹھایا، پھر رسول اللہ ﷺ بیٹھے رہے اور انہوں نے اپنے لیے دوسرا سجدہ کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے، پھر وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے چلے یہاں تک کہ وہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسرا گروہ آیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنائی، پھر انہوں نے تکبیر کہی پھر اپنے لیے رکوع کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا دوسرا سجدہ کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ اپنی (دوسری) رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے لیے دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنائی، تو آپ ﷺ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی اور ان سب نے اکٹھے رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو ان سب نے اکٹھے سجدہ کیا، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سر اٹھایا، رسول اللہ ﷺ نے یہ سب کچھ بہت جلدی کیا اور جتنا ہو سکا مختصر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو انہوں نے سلام پھیرا، پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگ آپ ﷺ کی پوری نماز میں شریک رہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ نماز خوف کے بارے میں سب سے مکمل اور تسلی بخش حدیث ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26354)، وأبو داود (1242)، وابن حبان (2873) من طريق يعقوب بن إبراهيم بن سعد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (26354/43)، ابوداؤد (1242) اور ابن حبان (2873) نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: فصدع رسول الله ﷺ صدعتين: أصل الصدع: الشق، والمراد ها هنا: قسمهم قسمين. قاله السندي في حاشيته على "المسند".
(توضیح): "صدعتين"؛ اصل میں دراڑ کو کہتے ہیں، یہاں مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔