حدیث نمبر: 1256
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدلُ، حدثنا عُبيد بن محمد الحافظ، حدثنا محمد بن أبي صفوان، حدثنا حَرَميُّ بن عُمَارة، عن عُبيد الله بن النَّضْر، حدثني أبي، قال: كانت ظُلْمةٌ على عهد أنس بن مالك، قال: فأتيتُ أنس بن مالك فقلت: يا أبا حمزة، هل كان يُصيبُكم مثلُ هذا على عهد رسول الله ﷺ؟ فقال: مَعَاذَ الله، إن كان الرِّيح لَيَشتدُّ فنُبادِرُ إلى المسجد مخافةَ القيامة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعُبيد الله هذا: هو ابن النَّضْر بن أنس بن مالك، وقد احتَجّا بالنَّضر.
حافظ طلحہ بابر

عبیداللہ بن نضر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اندھیرا چھا گیا، میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی آپ لوگوں کو ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ! اگر کبھی آندھی بھی تیز چلتی تو ہم قیامت کے خوف سے مسجد کی طرف دوڑ پڑتے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ عبیداللہ، نضر بن انس بن مالک کے بیٹے ہیں، اور شیخین نے نضر سے حجت پکڑی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الكسوف / حدیث: 1256
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قابل للتحسين
تخریج حدیث «إسناده قابل للتحسين، النضر والد عبيد الله: هو ابن عبد الله بن مطر القيسي- من ولد قيس» [ترقيم الرساله 1256] [ترقيم الشركة 1245]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قابل للتحسين، النضر والد عبيد الله: هو ابن عبد الله بن مطر القيسي، من ولد قيس

ابن عباد، روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، انظر ترجمته في "تهذيب الكمال" للمزي، وليس هو النضر بن أنس بن مالك كما زعم المصنف، فلم يذكر أحد في الرواة عنه ابنه عبيد الله، لذلك استغرب الذهبي في "تلخيصه" من قول الحاكم: إنه عبيد الله بن النضر بن أنس بن مالك، فقال: إنه يقول لأبيه: يا أبا حمزة!

درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "تحسین" (حسن قرار دینے) کے قابل ہے۔
فنی نکتہ: نضر (والدِ عبیداللہ) ثقہ ہیں مگر یہ "نضر بن انس" نہیں ہیں جیسا کہ حاکم نے وہم کیا، بلکہ یہ نضر بن عبداللہ القیسی ہیں۔
محمد بن أبي صفوان: هو محمد بن عثمان بن أبي صفوان.
فنی نکتہ: محمد بن ابی صفوان سے مراد محمد بن عثمان ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1196) عن محمد بن عمرو بن جبلة بن أبي رواد، عن حرمي بن عمارة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1196) نے حرمي بن عمارہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج البخاري (1034)، وابن حبان (664) من طريق حميد الطويل، عن أنس بن مالك: أنَّ النبي ﷺ كان إذا هبّت الريح عُرف ذلك في وجهه.
حوالہ / مصدر: بخاری (1034) اور ابن حبان میں مروی ہے کہ جب تیز ہوا چلتی تو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر (فکر کے) آثار نظر آتے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1256 سے ماخوذ ہے۔