حدیث نمبر: 1223
أخبرَناه أبو أحمد بن أبي الحسن، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعث، عن محمد بن سِيرين، عن خالد الحَذَّاء، عن أبي قِلابة، عن أبي المهلَّب، عن عِمْران بن حُصَين: أنَّ النبي ﷺ صلَّى بهم فسَهَا في صلاته، فَسَجَدَ سَجدَتي السَّهو بعد السَّلام والكلام (3).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ ﷺ سے نماز میں سہو ہو گیا، چنانچہ آپ ﷺ نے سلام پھیرنے اور کلام کرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب السهو / حدیث: 1223
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، محمد بن يحيى: هو الذهلي» [ترقيم الرساله 1223] [ترقيم الشركة 1212]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. محمد بن يحيى: هو الذهلي.
درجۂ حدیث: (3) اس کی سند صحیح ہے۔ محمد بن یحییٰ سے مراد الذہلی ہیں۔
وأخرجه النسائي (609) و (1160) عن محمد بن يحيى الذهلي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (609، 1160) نے محمد بن یحییٰ الذہلی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (19828) و (19868) و (19960)، ومسلم (574)، وأبو داود (1018)، وابن ماجه (1215)، والنسائي (580) و (610) و (1161) و (1255)، وابن حبان (2654) و (2671) و (2673) من طرق ثمانية عن خالد بن مهران الحذاء، به. وذكر بعضهم فيه قصة ذي اليدين، وفيه: فصلى الركعة التي كان ترك، ثم سلم، ثم سجد سجدتي السهو، ثم سلم.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (19828/33 وغیرہ)، مسلم (574)، ابوداؤد (1018)، ابن ماجہ اور نسائی نے خالد الحذاء کے آٹھ طریقوں سے روایت کیا ہے جس میں "ذوالیدین" کا قصہ بھی مذکور ہے۔
وانظر ما قبله.
فنی نکتہ: اس سے پہلے والی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1223 سے ماخوذ ہے۔