حدیث نمبر: 1020
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعبد الله محمد بن موسى قالا: حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام، عن مَعمَر، عن إسماعيل ابن أُمية، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ نَهَى رجلًا وهو جالسٌ مُعتمِدٌ على يده اليسرى في الصلاة فقال: "إنها صلاةُ اليهودِ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1007 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا جو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً یہ یہودیوں کی نماز (کا طریقہ) ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 1020
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، هشام: هو ابن يوسف الصنعاني» [ترقيم الرساله 1020] [ترقيم الشركة 1012] [ترقيم العلميه 1007]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. هشام: هو ابن يوسف الصنعاني.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ ہشام سے مراد الصنعانی ہیں۔
وأخرجه البيهقي 2/ 136 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (136/2) نے امام حاکم کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف عند المصنف برقم (933) من طريق عبد الرزاق عن معمر، ولم يذكر فيه قوله: "إنها صلاة اليهود".
تکرار: یہ پہلے نمبر (933) پر عبدالرزاق عن معمر کی سند سے گزر چکی ہے مگر اس میں "یہ یہودیوں کی نماز ہے" کے الفاظ نہیں تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1020 سے ماخوذ ہے۔