المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
خُطْوَتَانِ أَحَدُهُمَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ وَالْأُخْرَى أَبْغَضُ الْخُطَا إِلَى اللَّهِ باب: دو قدم ایسے ہیں: ایک اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور دوسرا اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا بَقيَّة بن الوليد، حدثنا بَحِير بن سَعْد (1)، عن خالد بن مَعْدانَ، عن معاذ بن جَبَل، عن النبي ﷺ قال: "خَطْوتانِ إحداهما أحبُّ إلى الله، والأخرى أبغضُ الخُطَا إلى الله، فأما الخَطْوةُ التي يحبُّها، فرجلٌ نَظَرَ إلى خَلَلٍ في الصف فسَدَّه، وأما التي يُبغِضُ اللهُ، فإذا أراد الرجل أن يقومَ مَدَّ رجلَه اليمنى ووَضَعَ يدَه عليها، وأثبَتَ اليسرى ثم قام" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ ببقيَّةَ في الشواهد، ولم يُخرجاه. فأما بقيةُ بن الوليد فإنه إذا روى عن المشهورين، فإنه مأمونٌ مقبول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1008 - لا فإن خالدا عن معاذ منقطعسیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دو قدم ایسے ہیں جن میں سے ایک اللہ کو بہت پسند ہے اور دوسرا اللہ کے نزدیک قدموں کی سب سے ناپسندیدہ قسم ہے، رہا وہ قدم جسے اللہ پسند فرماتا ہے تو وہ اس شخص کا ہے جو صف میں خالی جگہ دیکھے اور اسے پُر کر دے، اور وہ قدم جس سے اللہ بغض رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص (سجدے سے) کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو اپنا دایاں پاؤں پھیلائے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر (بائیں پاؤں کو جما کر) کھڑا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بقیہ (بن ولید) سے شواہد میں احتجاج کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بقیہ بن ولید جب مشہور اساتذہ سے روایت کریں تو وہ قابلِ اعتماد اور مقبول ہوتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ: (1) مطبوعہ نسخوں میں "یحییٰ بن سعید" غلط چھپ گیا تھا، بیہقی کے ہاں بھی یہی غلطی ہوئی ہے۔
(2) إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ليس بذاك القوي، ويدلّس تدليس التسوية، وأحمد بن الفرج ليس بذاك الثقة يعتَبر به في المتابعات والشواهد، وخالد بن معدان عن معاذ منقطع كما قال الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: (2) یہ سند ضعیف ہے؛ بقیہ بن الولید قوی نہیں اور 'تدلیسِ تسویہ' کرتے ہیں، احمد بن الفرج ثقہ نہیں، اور خالد بن معدان کا حضرت معاذ سے انقطاع ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 388 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (388/2) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔