المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
النَّهْيُ عَنِ الْإِقْعَاءِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں اَقعاء (مخصوص بیٹھک) سے منع کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 1019
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري وعلي بن عيسى قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبدي، حدثنا يعقوب بن كعب الحَلَبي، حدثنا مَخلَد بن يزيد، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبَير، أنه سمع طاووسًا يقول: قلتُ لابن عباس في الإقعاءِ، قال: هي سُنَّة، قلت: إنا نراه جَفَاءً، فقال ابن عباس: إنها السُّنّة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1006 - وصح في إباحة ذلك على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
طاوس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (نماز میں) ”اقعاء“ (یعنی دونوں سجدوں کے درمیان ایڑیوں پر بیٹھنے) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت ہے، میں نے عرض کیا: ہم تو اسے ایک قسم کی سختی یا جفا سمجھتے ہیں، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (ایسا نہیں بلکہ) یہی سنت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس المكي.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوزبیر سے مراد محمد بن تدرس مکی ہیں۔
وأخرجه أحمد 5/ (2853)، ومسلم (536)، وأبو داود (845)، والترمذي (283) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (2853/5)، مسلم (536)، ابوداؤد اور ترمذی نے ابن جریج کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوزبیر سے مراد محمد بن تدرس مکی ہیں۔
وأخرجه أحمد 5/ (2853)، ومسلم (536)، وأبو داود (845)، والترمذي (283) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (2853/5)، مسلم (536)، ابوداؤد اور ترمذی نے ابن جریج کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1019 سے ماخوذ ہے۔