کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس غلام کا بیان جس کو دشمن نے قید کر لیا پھر دوبارہ مسلمان اس پر غالب آ جائیں
حدیث نمبر: 35583
٣٥٥٨٣ - حدثنا هشيم عن ابن عون عن رجاء بن حيوة أن أبا عبيدة كتب إلى عمر بن الخطاب في عبد أسره المشركون، ثم ظهر عليه (المسلمون) (١) بعد ذلك، قال: صاحبه أحق به ما لم يقسم، فإذا قسم (٢) مضى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ، غلام کو مشرکین نے قیدی بنا لیا ہو پھر دوبارہ مسلمان اس پر غلبہ حاصل کرلیں تو کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تقسیم غنیمت سے پہلے اس کا مالک زیادہ حقدار ہے، اور اگر تقسیم ہوجائے تو پھر اس کا حق ختم ہوگیا۔
حدیث نمبر: 35584
٣٥٥٨٤ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن رجاء بن حيوة عن قبيصة بن ذؤيب قال: قال عمر: ما أحرز المشركون من أموال المسلمين فغزوهم بعد ⦗٤٤١⦘ وظهروا عليهم فوجد رجل ماله بعينه قبل أن (تقسم) (١) السهام فهو أحق به، وإن كان قسم فلا شيء له (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا مشرکین مسلمان کے مال پر قبضہ کرلیں پھر مسلمان جہاد کر کے ان پر غلبہ حاصل کرلیں اور وہ شخص اپنا مال جوں کا توں تقسیم سے پہلے پالے تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر غنیمت تقسیم ہوگئی تو پھر اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 35585
٣٥٥٨٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة قال: قال علي: هو للمسلمين عامة؛ لأنه كان لهم مالًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : وہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے، کیوں کہ وہ ان ہی کا مال تھا۔
حدیث نمبر: 35586
٣٥٥٨٦ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه أن عليًا كان يقول فيما أحرز العدو من أموال المسلمين إنه بمنزلة أموالهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جو مسلمان کا مال کفار کے قبضہ میں چلا جائے، تو وہ ان کے مال کے مرتبہ میں ہے۔ اور حسن رحمہ اللہ بھی یہی فیصلہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 35587
٣٥٥٨٧ - قال: وكان الحسن يقضي بذلك.
حدیث نمبر: 35588
٣٥٥٨٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن ثور عن (أبي) (١) عون عن زهرة بن يزيد المرادي أن أمة لرجل من المسلمين أبقت ولحقت بالعدو فغنمها المسلمون فعرفها أهلها، فكتب فيها أبو عبيدة إلى عمر فكتب عمر: إن كانت الأمة لم تخمس (و) (٢) لم تقسم فهي رد على أهلها، وإن كانت قد خمست وقسمت (فأمضها) (٣) (٤) لسبيلها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھرہ ابن یزید المرادی سے مروی ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص کی لونڈی تھی، وہ بھاگ کر دشمن کے ساتھ مل گئی (پھر کچھ عرصہ بعد) مسلمانوں کے ہاتھ مال غنیمت آیا تو باندی کے مالک نے اس کو پہچان لیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر دریافت فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا : اگر باندی کا خمس نہیں نکالا گیا اور اس کو تقسیم نہیں کیا گیا، تو پھر وہ مالک کو واپس کردی جائے گی، اور اگر خمس نکال لیا گیا ہے اور غنیمت تقسیم ہوچکی ہے تو پھر اس کو اسی راستہ پر برقرار رکھو۔ (جس کو مل گئی ہے اس کے پاس رہے گی) ۔
حدیث نمبر: 35589
٣٥٥٨٩ - حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أن عبدًا ⦗٤٤٢⦘ له أبق وذهب له بفرس (فدخل) (١) أرض العدو فظهر عليه خالد بن الوليد فرد أحدهما عليه في حياة رسول اللَّه ﷺ، ورد الآخر بعد وفاة رسول اللَّه ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام ان سے بھاگ گیا اور گھوڑا لے کر فرار ہوگیا، اور دشمن کی سر زمین میں چلا گیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان پر فتح حاصل کرلی۔ ان میں سے ایک چیز حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی واپس کردی گئی اور دوسری چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد واپس کردی گئی۔
حدیث نمبر: 35590
٣٥٥٩٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن أبي إسحاق عن سلمان بن ربيعة فيما أحرز العدو قال: صاحبه أحق به ما لم يقسم فإذا قسم فلا شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اس چیز کے متعلق فرماتے ہیں جس کو دشمن اٹھا لے، فرمایا غنیمت کی تقسیم سے قبل اس کا مالک ہی زیادہ حقدار ہے، اور اگر غنیمت میں تقسیم ہوجائے تو پھر اس کے مالک کیلئے کچھ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 35591
٣٥٥٩١ - حدثنا شريك عن الركين عن أبيه (أو) (١) عن عمه قال: حبس لي فرس فأخذه العدو قال: فظهر عليه المسلمون، قال: فوجدته في مربط سعد، قال: (فقلت) (٢): فرسي، قال: (٣) بينتك، قلت: أنا أدعوه فيحمحم، قال: إن أجابك فلا أريد منك بينة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رکین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرا گھوڑا کہیں چلا گیا۔ پس دشمنوں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر مسلمان ان پر غالب آگئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اس گھوڑے کو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے باڑے میں پایا۔ میں نے کہا : یہ تو میرا گھوڑا ہے۔ انہوں نے فرمایا : تمہارے گواہ کہاں ہیں ؟ میں نے کہا : میں اس کو پکاروں گا تو یہ ہنہنائے گا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ تمہاری پکار کا جواب دے دے میں تم سے گواہ کا مطالبہ نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 35592
٣٥٥٩٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن ابن سيرين أن أمة أحرزها العدو فاشتراها رجل فخاصمه سيدها إلى شريح فقال: المسلم أحق من رد على أخيه بالثمن، فقال: إنها ولدت من سيدها، قال: أعتقها قضاء (الأمير) (١)، فإن كانت كذا وكذا، وإن كانت كذا وكذا، قال: يقول: (الرجل لهو) (٢) أعلم بالقضاء من زيد بن خلدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک شخص کی باندی کو دشمن پکڑ کرلے گئے، اس کو ایک شخص نے خرید لیا۔ اس کا آقا جھگڑا لے کر حضرت شریح کے پاس آگیا، حضرت شریح نے فرمایا : مسلمان اس کا زیادہ حقدار ہے جو اس کے بھائی کو ثمن کے ساتھ واپس کیا جائے، کہا گیا کہ اس نے اپنے آقا سے بچہ جنا ہے۔ حضرت شریح نے فرمایا : اس کو آزاد کردو یہ امیر کا فیصلہ ہے، اگر وہ تھی اتنے اتنے کی، اگر وہ تھی اتنے اتنے کی اس شخص نے کیا یہ زید بن خلدہ سے زیادہ قضاء کو جانتے ہیں۔
حدیث نمبر: 35593
٣٥٥٩٣ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حسن فرماتے ہیں کہ دشمن مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرے پھر مسلمان اس کو غنیمت میں حاصل کرلیں اور اس مال کا مالک مال کو پہچان لے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر غنیمت تقسیم کردی گئی تو پھر فیصلہ گزر چکا ہے۔ (اب اس کو نہیں ملے گا) ۔
حدیث نمبر: 35594
٣٥٥٩٤ - وعن يونس عن الحسن قال: ما أحرز العدو من مال المسلمين فعرفه صاحبه فهو أحق به، وإن قسم فقد مضى.
حدیث نمبر: 35595
٣٥٥٩٥ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: ما أصاب المسلمون مما أصابه العدو قبل ذلك، فإن أصابه صاحبه قبل أن يقسم فهو أحق به، وإن قسم فهو أحق به بالثمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس کو کفار نے قبضہ میں لے لیا تھا اگر اس پر دوبارہ مسلمان قبضہ کرلیں اور واپس حاصل کرلیں تو تقسیم غنیمت سے قبل اس چیز کا مالک اس کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر تقسیم ہوگئی تو ثمن کے ساتھ زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 35596
٣٥٥٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن قتادة عن خلاس عن علي قال: ما أحرز العدو فهو جائز (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس پر دشمن قبضہ کرلیں (اور اس کو مسلمان واپس چھڑا لیں تو) وہ مالک کے لئے جائز ہے۔
حدیث نمبر: 35597
٣٥٥٩٧ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن الحكم عن إبراهيم قال: ما ظهر عليه المشركون من متاع المسلمين ثم ظهر عليه المسلمون، إن قسم فهو أحق به بالثمن، وإن كان لم يقسم رد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے مال پر اگر کفار غلبہ کر کے قبضہ کرلیں پھر مسلمان دوبارہ ان پر غالب آجائیں۔ تو اگر غنیمت تقسیم ہوگئی تو اس چیز کا مالک ثمن دے کرلینے کا زیادہ حقدار ہوگا اور اگر تقسیم نہ ہوا ہو تو پھر اس کو واپس مالک کی طرف لٹا دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 35598
٣٥٥٩٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن سماك عن تميم بن طرفة قال: أصاب السلمون ناقة لرجل من المسلمين، فاشتراها رجل من العدو فخاصمه صاحبها إلى النبي ﷺ، فأقام البينة، فقضى النبي ﷺ أن يدفع إليه الثمن الذي (اشترى) (١) به من العدو وإلا خلى بينه وبينها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن طرفہ سے مروی ہے کہ : مسلمانوں میں سے ایک شخص کی اونٹنی کو کفار لے گئے ایک شخص نے وہ اونٹنی کفار سے خرید لی اس اونٹنی کا مالک جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات پر گواہ پیش کر دئیے کہ اونٹنی اس کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ : جتنے کی اس نے دشمن سے خریدی ہے اتنے پیسے دے کرلے لو وگرنہ ان کے راستہ سے ہٹ جاؤ۔